انوارالعلوم (جلد 8) — Page 467
انوار العلوم جلد ۸ دورہ یورپ اس کا میں مقر ہوں اور میں اسے جائز سمجھتا ہوں اور اس کا کئی بار اظہار کر چکا ہوں۔ اس کے سوا مجھے جماعت کے روپیہ سے کوئی تعلق نہیں۔ میں امیر آدمی نہیں بسا اوقات مجھے بیماری میں دواؤں اور ضروری لباس یا اور ضروریات کے لئے سامان میسر نہیں ہوتا تو میں نفس پر تکلیف برداشت کر لیتا ہوں مگر اپنی حالت کو بھی ایسا نہیں بناتا کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ مجھے کسی چیز کی ضرورت ہے۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ایک رنگ سوال کا ہے۔ دور عرض اگر باوجود ان حالات کے کوئی شخص میری طرف وہ بات منسوب کرتا ہے جن سے میں ایساہی ہوں جیسا کہ نور ظلمت سے تو میں اپنے خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ اور اس سے کرتا ہوں کہ اے میرے خدا! اے میرے خدا میں تیرا عاجز بندہ ہوں اور اپنے گناہوں کا مقر - میں اپنی خطاؤں کی معافی کی امید میں ان لوگوں کے ظلموں کو معاف کرتا ہوں۔ تو ان کی خطاؤں کو بھی معاف فرما اور میرے قصوروں سے بھی درگزر کر اور میرے دل کو صبر کی طاقت دے کہ روح تو خوش ہے مگر جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔ مولوی نعمت اللہ صاحب کی شہادت مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کے ان الزامات کے جواب میں جو انہوں نے میرے سفر کے متعلق اب تک کئے ہیں آخری بات کہہ کر میں اس تکلیف دہ واقعہ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جو کابل میں ہوا ہے۔ مولوی نعمت اللہ صاحب کی شہادت معمولی بات نہیں ہے۔ کیونکہ افغانستان کے پہلے فعل اگر جہالت کے ماتحت تھے تو یہ دیدہ دانستہ ہے۔ اب افغانستان کی گورنمنٹ ہمارے اصول سے اچھی طرح واقف ہو گئی ہے۔ اور اس کا یہ فعل نہایت قابل افسوس ہے۔ مگر مسلمان لڑنے کے لئے نہیں بلکہ دنیا کے لئے قربان ہونے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اس لئے ہمیں اپنے خیالات کی رو کو صلح اور امن کی طرف پھیرنا چاہئیے نہ کہ بغض اور فساد کی طرف بد پر رحم اور بدی سے نفرت ہمیں میں تعلیم ہے کہ ہم کو چاہیے کہ بد پر رحم کریں اور بدی سے نفرت کریں۔ بدی کو مٹائیں اور بد کو بچائیں۔ پس ہمیں افغانستان کی گورنمنٹ اور اس کے فرمانروا کے خلاف دل میں بغض نہیں رکھنا چاہیے بلکہ دعا کرنی چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ اب بھی ان کو ہدایت دے۔ بے شک یہ کام مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ صبر مشکل ہے۔ ہمیں جیسا کہ میں تار میں لکھ چکاہوں اپنی پوری توجہ اس کام کے