انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 465 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 465

انوار العلوم جلد ۸ ۴۶۵ دورہ یورپ بہر حال میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر اس سفر میں ہم کوئی بھی کام نہ کرتے اور سیریں ہی کرتے رہتے تب بھی یہ سفر قابل اعتراض نہ تھا کیونکہ یہ دو پیشگوئیوں کو پورا کرنے کے لئے تھا۔ ایک آنحضرت ملی یم کی پیشگوئی جو دمشق کے متعلق تھی اور ایک حضرت مسیح موعود کی جو انگلستان کے متعلق تھی۔ پس اگر ہم لوگ اپنے روپیہ سے بغیر اس کے کہ مولوی صاحب سے روپیہ کا مطالبہ کریں اور بغیر اس کے کہ غیر احمدیوں سے کچھ مانگیں (وہ چونکہ مولوی محمد علی صاحب کے داتا ہیں۔ ان سے مانگنے کا اثر بھی لوٹ کر مولوی محمد علی صاحب کے خزانہ پر پڑتا ہے) اس سفر کو بعض پیشگوئیوں کے پورا کرنے کے لئے اختیار کریں تو اس پر ان کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں مولوی محمد علی صاحب جس طرح خود میرے معاملہ میں اپنی عقل کو فراموش کر دیتے ہیں اسی طرح باقی لوگوں کو بھی سمجھتے ہیں۔ میں نے انگلستان آنے کا ارادہ نہیں کیا جب تک کہ سو میں سے نوے جماعتوں نے مجھے یہاں آنے کا مشورہ نہیں دیا ۔ پس اگر یہ سفر ناجائز تھا تو اعتراض جماعتوں پر پڑتا ہے نہ مجھ پر وہ یہ تو کہہ سکتے تھے کہ دیکھو کیسا نادان ہے کہ لوگوں نے ناواقفیت سے مشورہ دیا اور وہ گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ مگر یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ اس کو کسی نے روکا کیوں نہیں۔ کیا مولوی صاحب سمجھتے ہیں کہ ان کے مضمون میں ایسا مقناطیسی اثر ہے کہ وہ مسمریزم کے اثر کی طرح سب کچھ بھلا دیتا ہے اور اپنی مرضی منوا لیتا ہے۔ جن لوگوں نے مہینہ بھر پہلے مجھے مشورہ دیا تھا کہ میں ضرور انگلستان جاؤں اور کسی تکلیف کا بھی خیال نہ کروں۔ کیا وہ ایک مہینہ کے بعد یہ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے قوم کا روپیہ کیوں برباد کیا اور کیوں انگلستان چلا گیا۔ اور پھر وہ قوم کا روپیہ برباد کرنے کا الزام مجھ پر دے سکتے ہیں جو جانتے ہیں کہ میں نے اپنی ذات کے لئے کوئی روپیہ نہیں لیا۔ اور جو اپنے خطوں میں اس پر اصرار کرتے رہے ہیں کہ میں اپنی ذات کے اخراجات بھی جماعت کے خزانہ سے لوں۔ میں مولوی محمد علی صاحب کو یقین دلاتا ہوں کہ احمدی جماعت کچھ بھی ہو وہ اس قدر عقل سے دور نہیں ہو گئی کہ اس قسم کی مجنونانہ باتیں کرنے لگ جائے۔ خدا کے سوا کسی کی پرواہ نہیں مگر میں ان سے دریافت کرتا ہوں کہ اگر ان کے مضمون کا اثر ہو جائے تو پھر کیا ہو گا۔ یہی ناکہ لوگ میری بیعت سے منحرف ہو کر ان سے جاملیں گے۔ سو میں اس کے متعلق پھر ایک دفعہ کہہ دینا چاہتا ہوں