انوارالعلوم (جلد 8) — Page 459
انوار العلوم جلد ۸ ۴۵۹ دورہ یورپ بہنو! اور بھائیو! میں ایک بات کی طرف آپ کو توجہ دلانا چاہتا مرکزی ہستی کی طرف بڑھو ہوں جو یقینا آپ کے کام میں محمد ہو گی اور جس کے بغیر حقیقی کامیابی مشکل ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ کو اسی ہستی کی طرف قدم بڑھانا چاہئے جو تمام عالم خلق کے لئے بطور مرکز کے ہے۔ ایک دائرہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ تمام بعد مرکز سے بعد کی وجہ سے ہوتے ہیں اور جوں جوں ہم مرکز کے قریب ہوتے جائیں خواہ ہم کسی جانب سے بھی کیوں نہ چلے ہوں ہم ایک دوسرے سے زیادہ نزدیک ہوتے چلے جاتے ہیں حتی کہ اگر ہم مرکز تک پہنچنے کی توفیق پالیں پھر تو ہم میں کوئی جدائی رہتی ہی نہیں۔ اس تمام عالم خلق کا مرکز خدا ہے اور بغیر اس کی کامل محبت کے اور اس کے قرب کے ہم حقیقی اتحاد پیدا نہیں کر سکتے۔ جھگڑے تب ہی پیدا ہوتے ہیں جب کہ ہم اس کی طرف سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ اس کی کامل محبت ہمارے دلوں کو نفرت اور حقارت کے جذبات سے بالکل خالی کر دیتی ہے۔ لوگ ضرب المثل کے طور پر بھائیوں کی محبت کو پیش کرتے ہیں مگر یہ محبت کس سبب سے ہے ؟ اسی لئے کہ ان کے وجود میں لانے والی ہستی ایک ہے۔ اولاد کاماں سے یا باپ سے تعلق ان کے باہمی تعلقات کو مضبوط کر دیتا ہے اسی طرح جب لوگ خدا تعالیٰ کی محبت کو دوسری باتوں پر ترجیح دیں گے تو ان کے باہمی تعلقات مضبوط ہوں گے اور وہ محسوس کریں گے کہ جب ان سب کا پیدا کرنے والا ایک ہے اور وہ ایک ہی ہستی کے دامن رحمت کے سایہ کے نیچے بیٹھے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی نسبت نفرت اور حقارت کے جذبات کو پیدا ہونے دیں۔ ذریعہ سے نہیں ہو سکتا دنیا میں امن کسی طرح ہو سکتا ہے کیونکہ صلح کرانے والا یا مغربی ہو گیا شرقی اور اس دنیا کا امن دنیا کے لوگوں کے ذریعہ وجہ سے ایک یا دوسری قوم اس کی کوششوں کو شک کی نگاہوں سے دیکھے گی۔ صلح اس ہستی کے ذریعہ سے ہو سکتی ہے جو نہ مشرقی ہے نہ مغربی ہے بلکہ سب جہتوں سے پاک ہے۔ اسی ذات کی طرف قدم بڑھانے سے ہم در حقیقت ایک دوسرے کی طرف قدم بڑھاتے ہیں اور جو اس کی طرف سے آئے وہی ہم کو جمع کر سکتا ہے کیونکہ وہ جو آسمان سے آتا ہے وہ مشرقی یا مغربی نہیں کہلا سکتا بلکہ جو اس سے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی مشرق و مغرب کی قید سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ میں حیران ہو جاتا ہوں دیکھتا ہو کہ بلاوجہ بے بلاوجہ جھگڑ افساد کیوں عداوت کرتی ہیں۔ رہائش کی جگہ کے اختلاف اور دلی منافرت اور میں سخت حیران ہو جاتا ہوں جب دیکھتا ہوں کہ بلا وجہ بے سبب قومیں آپس میں