انوارالعلوم (جلد 8) — Page 434
انوار العلوم جلد ۸ ۳۴ دورہ یورپ سے بھی نہیں رک سکتا کہ یورپ کی طرف مسیح موعود یا آپ کے کسی جانشین کا اس غرض سے سفر کرنا جس غرض سے میں نے سفر کیا ہے ، قرآن کریم میں بھی مذکور ہے۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے سفر کے بغیر اسلام کی حفاظت کامل نہیں ہو سکتی۔ یہ ذکر صورۃ کہف میں ہے جس میں اللہ تعالی ذوالقرنین کی نسبت فرماتا ہے۔ ن فَاتَّبَعَ سَبَبًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنِ حَمِئَةٍ وَوَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا قُلْنَا يُذَ الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَنْ تُعَذِّبَ وَإِمَّا أَنْ تَتَّخِذَ فِيْهِمْ حُسْنًا قَالَ أَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلَى رَبِّهِ فَيُعَذِّبَهُ عَذَابًا نُكْرًا وَأَمَّا مَنْ أَمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاء الْحُسْنَى وَسَتَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنَا يُشَرَّات پس ذو القرنین ایک راستہ کی طرف چلا یہاں تک کہ وہ مغرب کے ملکوں میں پہنچ گیا۔ اور دیکھا کہ یہ ممالک جہاں سورج ڈوبتا ہے ایک گدلے چشمے کی طرح ہیں جس میں پانی تو ہے مگر بُودار اور گندہ جو استعمال کے قابل نہیں رہا۔ اور اس نے اس چشمہ کے پاس ایک قوم دیکھی جس کی نسبت ہم نے ذوالقرنین سے کہا کہ توان کے متعلق کوئی فیصلہ کر دیا تو یہ فیصلہ کر کہ یہ تباہ کر دیئے جائیں اور یا تو ان سے ایسا سلوک کر کہ ان کی حالت اچھی ہو جائے۔ ذوالقرنین نے جواب میں میں کہا کہ جو ظلم کرنے رنے والا ہو گا اس کو تو میں عذاب دوں گا اور پھر وہ خدا کی طرف لوٹایا جائے گا یعنی مر جائے گا۔ اور اس کو ایسا سخت عذاب ملے گا جو کسی کو کم ہی ملا ہو گا۔ اور جو شخص ایمان لائے اور نیک عمل کرے گا پس اس کو نیک جزا ملے گی اور ہم اسے اپنے احکام سہولت کے ساتھ آسانی کے ساتھ سمجھائیں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لکھتے ہیں کہ ذوالقرنین آپ کا نام ہے ۔ اور گدلے چشمہ سے مراد مسیحی تعلیم ہے۔ جو ہے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے مگر اب وہ خراب ہو گئی ہے اور استعمال کے قابل نہیں ۔ مغرب کے لوگ اس چشمہ کے پاس ہیں ۔ یعنی اس گندی تعلیم کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور قرآن کریم کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ پس جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کے مطابق ذوالقرنین آپ ہیں اور مغربی ممالک سے مراد یورپ و امریکہ کے لوگ ہیں جو مسیحیت کے چشمہ پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ۔ تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود یا ان کے کسی جانشین کو مغربی ممالک کا سفر کرنا ہو گا۔ کیونکہ قرآن کریم میں لکھا ہے کہ فا تبَعَ سَبَبًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ ذوالقرنین ایک ملک کی طرف گیا جو مغرب میں تھا۔ پس یہ سفر قرآن کریم کی اس پیشگوئی کے