انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 432

انوار العلوم جلد ۸ کے جامہ میں تباہ کر دے گا۔ ۳۲ دورہ یورپ پس ہم دو آگوں میں ہیں ۔ اور ہماری مثال وہی ہے کہ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن "۔ اس مشکل کا علاج سوچنے کے لئے یا وہاں کے مقامی حالات معلوم کرنے کے لئے تاکہ مبلغوں کی سختی سے نگرانی ہو سکے اور جہاز کو چٹانوں میں سے بہ حفاظت گزارا جاسکے اس سفر کی ضرورت پیش آئی ہے۔ اور غالبا اب آپ لوگ سمجھ گئے ہوں گے کہ کیسی مشکل غرض ہے۔ سوائے خدا تعالیٰ کی مدد کے ہم اس مشکل کو حل نہیں کر سکتے ۔ مسلمان بنانا آسان ہے مگر اسلام کو ان سے بچانا مشکل ہے اور اس وقت میرے سفر کی یہی غرض ہے۔ یورپ میں اشاعت اسلام کے متعلق خطرہ یورپ کے واقف کہتے ہیں کہ یہ نا ممکن ہے یورپ ضرور اسلام لائے گا مگر وہ ساتھ ہی اسلام کو بگاڑ دیگا اور اس کی شکل کو بالکل مسخ کر دے گا۔ بالکل ممکن ہے کہ یورپ میں چاروں طرف سے اللہ اکبر کی آوازیں آنے لگیں اور سب جگہ گرجوں کی جگہ مساجد بن جائیں لیکن یہ فرق ظاہر کا ہو گا۔ لوگ تثلیث کی جگہ توحید کو دعوی کریں گے، مسیح کی جگہ رسول کریم ملی ایم کی عزت زیادہ کریں گے، مسیح موعود پر ایمان لائیں گے گرجوں کی جگہ مسجدیں بنائیں گے مگران : عمران میں وہی ناز ناچ گھر وہی روہی عورت اور مرد کا تعلق وہی شراب وہی سامان عیش نظر آئیں گے۔ یورپ کی رہے گا گو وہ بجائے عیسائی کہلانے کے مسلمان کہلائے گا۔ میری عقل یہی کہتی ہے کہ حالات ایسے ہی ہیں مگر میرا ایمان کہتا ہے کہ تیرا فرض ہے کہ تو اس مصیبت کو جو اگر اسلام پر نازل ہوئی تو اس کو کچل دے گی دور کرنے کی کوشش کر۔ غور کر اور فکر کر اور دعا کر۔ پھر غور کر اور فکر کر اور دعا کر۔ اور پھر غور کر اور فکر کر اور دعا کر۔ کیونکہ تیرا خدا بڑی طاقتوں والا ہے۔ شاید وہ کوئی درمیانی راہ نکال دے اور اس تباہی کو جو اسلام کے سامنے ایک نئے رنگ میں کھڑی ہے دور کر دے۔ غیر احمدیوں کے لئے یہ دقت ہے کہ یورپ اپنی مخالفت سے ان کو تباہ کر دے گا۔ ہمارے لئے یہ مشکل ہے کہ یورپ اپنی دوستی سے ہمارے دین کو برباد کر دے گا۔ وہ تو اپنی حالت پر خوش ہیں، ہم لوگ خوش نہیں ہو سکتے۔ ان کو حکومتوں کی فکر ہے ہے اور ہمیں اسلام کی۔ پس ہمارا فرض ہے کہ اس مصیبت کے آنے سے پہلے اس کا علاج سوچیں اور یورپ کی تبلیغ کے لئے ہر قدم جو اٹھائیں اس کے متعلق پہلے غور کرلیں۔ اور یہ ہو نہیں سکتا جب تک کہ وہاں کے حالات کا عینی علم حاصل نہ ہو۔ پس اسی وجہ سے باوجود صحت کی کمزوری کے میں نے اس سفر کو اختیار کیا ہے۔