انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 410

انوار العلوم جلد ۸ ۱۰ دورہ یورپ ایسے ہی قرآن کریم بھی فرماتا ہے لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الَّا فَاوِيْلِ لَا خَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنِ - ۱۵ اگر وہ اپنی کسی بات کو ہماری طرف منسوب کرے جو ہم نے اسے نہیں کی تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑلیں اور اس کی رگِ جان کاٹ دیں۔ یہ آیات بتاتی ہیں کہ اگر ایک آدمی کچھ اقوال خود بنا لے اور پھر دنیا کے سامنے ان کو خدا کی طرف سے آئی ہوئی وحی کے نام سے پیش کرے تو وہ کبھی ترقی نہیں پا سکتا اور قبل اس کے کہ اس کی تحریک دنیا میں مضبوط قدم پکڑلے وہ اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے۔ اس کسوٹی سے مسیح موعود کے دعوی کو دیکھ کر ہمیں آپ کی صداقت کا یقین ہو جاتا ہے کیونکہ آپ نے پہلی وحی کا دعوی چالیس سال کی عمر میں کیا اور اس دعویٰ کی اشاعت کے کے ! بعد چونتیس یا پینتیس سال زندہ رہے۔ آپ کو ایک بڑھتی ہوئی جماعت دی گئی اور آپ عام عرصہ زندگی سے زیادہ زندہ رہے۔ بہنو اور بھائیو! کیا عقل یہ تسلیم کر سکتی ہے کہ وہ زندہ خدا ایک شخص کو عمداً اجازت دے کہ وہ کچھ اقوال خود بنائے اور ان کو خدا کی طرف سے آئی ہوئی وحی کہہ کر لوگوں میں شائع کرے اور وہ اس طرح بلا روک بغیر سزا پانے کے مخلوق کو گمراہی کی طرف لے جائے۔ اگر ایسا ہو تو پھر ایمان کی کونسی حفاظت ہو سکتی ہے اور نیکی کا بچاؤ کیسے کیا جا سکتا ہے ؟ پھر آپ کے دعوی کے ثبوت میں وہ حیرت انگیز نشان بیان کئے مسیح موعود کے نشان جاسکتے ہیں جو خدا نے آپ کے ہاتھوں پر اسی طرح ظاہر کئے جس طرح کہ پہلے نبیوں کے ہاتھوں پر ظاہر کیا کرتا تھا۔ یہ نشان لاکھوں کی تعداد میں ہیں لیکن میں یہاں مثال کے طور پر صرف چند ان میں سے پیش کرتا ہوں جن کے ثبوت کے لئے کسی ظاہری شہادت کی ضرورت نہیں۔ پہلی مثال میں آپ کے علمی معجزہ کی لیتا ہوں۔ باوجود اس بات کے کہ آپ پنجاب کے ایک چھوٹے سے غیر معروف گاؤں کے باشندے تھے اور کبھی کسی سکول یا مکتب میں نہیں بیٹھے تھے آپ نے یہ اعلان کیا کہ خدا نے مجھ کو عربی زبان کا غیر معمولی علم اور کامل ملکہ عطا کیا ہے جس کا وہ لوگ بھی مقابلہ نہیں کر سکتے جن کی مادری زبان عربی ہے۔ اس اعلان کے مطابق آپ نے عربی زبان میں کئی کتابیں لکھیں اور شائع کیں اور اپنے مخالفین کو جن میں عرب ، مصر اور سیریا کے لوگ بھی شامل تھے چیلنج دیا کہ اگر تم کو میرے دعوی کی صداقت پر شک ہے تو تم بھی عربی کی ایسی کتابیں لکھ کے دکھاؤ جو علمی طرز فصاحت حسن انشاء اور بلاغت کے نقطہ خیال سے