انوارالعلوم (جلد 8) — Page 408
انوار العلوم جلد ۸ ۷۰۸۵ دورہ یورپ اس کی نئی ترقی یافتہ روح کے لئے جسم کا کام دے گا اس لئے زندگی بعد الموت کے سرور اور غم اس روحانی جسم کے ان قومی کے مطابق ہوں گے جو انسان کو اس زندگی میں دیئے جائیں گے ۔ چوتھا سوال یہ ہے کہ کیا بهشت و دوزخ ابدی ہیں یا ایک مقررہ میعاد تک؟ آپ کا جواب یہ تھا کہ روح کو ابدی زندگی دی جائے گی اور بہشت انسان کے لئے لا محدود ترقی کے دروازے کھولے گا۔ لیکن چونکہ انسان کو کامل کرنے کی غرض سے پیدا کیا گیا ہے اس لئے دوزخ کی سزا ابدی نہیں ہوگی کیونکہ اگر دوزخ ابدی ہو تو انسان کی پیدائش کی غرض باطل ہوتی ہے اس لئے کہ بعض لوگ ہمیشہ کے لئے غیر مکمل حالت میں رہیں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ دوزخ ایک ہسپتال کی مثال ہے جہاں انسان ان روحانی امراض سے صحت یاب کیا جاتا ہے جو اس کو اس دنیا کے اعمال کے نتیجے میں لاحق ہو گئیں اور جن کی وجہ سے وہ بہشت کے سرور کا حظ اٹھانے کے نا قابل ہو گیا تھا۔ مختصر یہ کہ مسیح موعود علیہ السلام نے مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ثبوت اسلام کے ہر پہلو کی ان تمام غلطیوں کو دور کر دیا جو اس میں داخل ہو گئی تھیں اور دنیا کے سامنے قرآن کی اصل تعلیم پیش کی جس میں کسی نقص کا امکان نہیں ہو سکتا۔ اس جگہ جائز طور پر ایک سوال کیا جاسکتا ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے ذاتی ثبوت کیا ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مسیح موعود کے لئے تمام وہ ثبوت موجود ہیں جن سے گذشتہ انبیاء کی صداقت منوائی جاتی تھی۔ اور آپ نے وہ تمام معجزات دکھائے جو پہلے انبیاء نے دکھائے تھے۔ ایک نبی کی صداقت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس کی اپنی زندگی کمال درجہ کی خالص اور پاک ہو۔ اس سے میری یہ مراد نہیں کہ صرف لوگوں کو اس کے عیوب کا علم نہ ہو کیونکہ ہزار ہا لوگ ایسے ہوں گے جن کے متعلق کوئی بدی ثابت نہیں کی جاسکتی بلکہ میری مراد ایسی نیکی ہے جس کی لوگ شہادت دیں اور جس کی بناء پر وثوق سے نہ صرف یہ اقرار ہو سکے کہ وہ شخص کبھی کسی بدی کا مرتکب نہیں ہوا بلکہ یہ کہ اس سے کسی بدی کا سرزد ہونا ممکن ہی نہیں۔ یسوع مسیح اپنی صداقت کے ثبوت میں فرماتے ہیں ”کون تم میں سے مجھ پر گناہ ثابت کرتا ہے اگر میں سچ کہتا ہوں تو تم مجھ پر ایمان کیوں