انوارالعلوم (جلد 8) — Page 400
انوار العلوم جلد ۸ ۲۰۰ دورہ یورپ کئے جاتے ہیں جو دشمن نے اس غرض سے کی کہ تلوار کے زور سے ایک مذہب کی قبولیت کو روکا جائے یا اس سے مرتد ہونے پر مجبور کیا جائے۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ ایسی کوشش ایک ایسا جرم ہے جو اس کے مرتکب کو دائرہ انسانیت سے خارج کر دیتا ہے وہ لوگ جو ایک شخص کی جسمانی آزادی کے چھن جانے پر اظہار نفرت کرتے ہیں ان کو سوچنا چاہئے کہ جس کو سزا ملی ہے وہ بزور شمشیر اس بات کی کوشش میں تھا کہ لوگوں کو جبراً خدا کی عبادت سے روکا جائے اور انہیں مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی روحیں شیطان کے اختیار میں دیدیں۔ اگر وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو جاتا تو لکھوکھہا انسان صداقت کو چھوڑ دینے پر مجبور ہو جاتے اور ابدی تاریکی میں مبتلاء ہو جاتے کیا ایسا آدمی اس قابل ہے کہ اسے اس کی آزادی واپس کر دی جائے ؟ یہاں تک کہ وہ اپنے جرم پر نادم نہ ہو اور اپنے فعل پر سچے دل سے افسوس نہ کرے۔ کیونکہ غلامی کیا ہے؟ اس کا مطلب انسان کی آزادی کو اس وقت تک قید کر لینا ہے کہ وہ اپنے حصہ کی ذمہ داری اور اپنے حصہ کے اخراجات جنگ کو ادا کر دے کیا کوئی اخلاقی یا ملکی وجہ ہے جو جنگی قیدیوں کو لینے سے روکے۔ اسلام اجازت دیتا ہے کہ ہر ایک جنگی قیدی کو جو غلام بنایا گیا ہے اختیار ہے کہ وہ جنگ کے مصارف کا اپنا حصہ ادا کر کے اپنی آزادی خرید لے۔ پس اگر ایک غلام اپنی غلامی کو اپنی آزادی سے برا سمجھتا ہے تو کیوں وہ خود یا اس کے رشتہ دار یا اس کے ہم وطن اس کی آزادی اس کے حصے کے ان اخراجات جنگ کو ادا کر کے نہیں خرید لیتے جو اس مظلوم قوم کو مجبوراً برداشت کرنے پڑے اور جس کا مذہب انہوں نے کوشش کی کہ جڑ سے اکھاڑ دیا جائے۔ پھر اسلام کی تعلیم پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ سود لینے اور دینے سے منع کرتا حرمت سود ہے۔ حالانکہ سود دنیا کے اخوت و تمدن کی قدرتی بناء پر قائم نہیں بلکہ اس کو خود ایسا بنا لیا گیا ہے تھوڑا سا غور ظاہر کر دے گا کہ جیسے قرآن کریم کہتا ہے سود ہی موجودہ وقت کی کثرت سے جنگوں کا موجب ہے۔ اگر ایک گورنمنٹ سود پر قرض نہ لے سکے تو وہ کبھی جنگ میں شریک نہ ہو سکے کیونکہ کوئی جنگ روپے کے بغیر نہیں ہو سکتی خصوصاً اس زمانے میں ایک بڑی جنگ بہت بڑی مالی قربانیوں کو چاہتی ہے اور اگر ایک گورنمنٹ ضروری رقم روپیہ کی سود والے قرضے کے ذریعے سے نہ حاصل کر سکے تو وہ کبھی بغیر گہرے غور و فکر کے ایک ایسی کثیر مصارف والی اور تباہ کن جنگ میں حصہ نہ لے۔ انکم ٹیکس کا بوجھ فوراً لوگوں کو محسوس ہونے لگتا ہے اور