انوارالعلوم (جلد 8) — Page 398
انوار العلوم جلد ۸ ۳۹۸ دورہ یورپ یہ امر کہ کس حد تک اس اصول نے تمام قوموں کے لئے خدا کے ساتھ محبت کے دروازے کھول دیتے ہیں اور انسانوں کے اندرونی تعلقات کو اخوت ویگانگت کی بنیاد پر رکھ دیا ہے اور تمام مذاہب کے بانیوں اور راستبازوں کو ہتک و اہانت سے محفوظ کر دیا ہے کسی طویل بیان کو نہیں چاہتا کیونکہ ہر یک عقلمند آسانی سے یہ بات سمجھ سکتا ہے۔ دوسری طرف مسیح موعود نے بتایا کہ انسانی عقل نے آہستہ آہستہ نشو و نما پاتی ہے اور اس کی ترقی کے مختلف مدارج ہیں۔ وہ کامل حکیم خدا ان درجات ترقی کے مطابق ہمیشہ اپنی تعلیم بھیجتا رہا حتی کہ وہ وقت آگیا کہ جب انسانی عقل کامل نشو و نما پا چکی اور بنی آدم کے مختلف فرقوں کے آپس میں میل جول کے ذرائع اس حد تک پایہ تکمیل کو پہنچ گئے اور دنیا اپنی ترقی میں اس درجہ کو جا پہنچی کہ تمام کی تمام واحد ملک اور واحد قوم ظاہر ہونے لگی اس درجہ پر خدا نے اس آخری اور مکمل الہامی شریعت یعنی قرآن کریم کے ساتھ آخری شرعی نبی یعنی محمد اللہ کو بھیجا جو ہر زمانے کی ضرورت کے مطابق اپنے اندر تعلیم رکھتا ہے۔ مسیح موعود نے اس بات کی تشریح کر دینے میں دور اندیشی سے کام لیا اور اس امر پر زور دیا کہ یہ مسئلہ کہ خدا کی بھیجی ہوئی شریعتوں سے قرآن سب سے آخری اور مکمل ہے اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ انسان عقلی ترقی کے آخری درجہ پر پہنچ چکا ہے اور آگے نہیں چل سکتا کیونکہ انسانی دماغ ترقی کے راستے پر ہمیشہ ہمیش ترقی کرنے والا ہے اس دنیا میں بھی اور آخری دنیا میں بھی۔ اس کے برخلاف آپ نے بتایا کہ کتاب جتنی مکمل ہو گی اتنا ہی اسے علمی ترقی میں زیادہ امداد دینی چاہئے۔ ایک الہامی کتاب کے مضامین کے پرکھنے کے لئے آپ نے جو حیرت انگیز کسوٹی پیش کی اور جس نے تمام ان لوگوں کے رویہ کو بدل دیا جو الہامی کتب کے متعلق صداقت کے متلاشی تھے وہ یہ تھی کہ خدا کا کلام خدا کے کام کی مانند ہونا چاہئے جس طرح اس کے کام ان لا محدود بھیدوں کا خزانہ ہیں جن کو ابتدائے آفرینش سے آج تک انسان نہیں پاسکا اسی طرح اس کا کلام بھی نہ ختم ہونے والے علم و دانائی کا خزانہ ہونا ضروری ہے۔ اس کے ماتحت آپ نے ثابت کیا کہ قرآن کریم مادی دنیا کے خزانوں سے کہیں زیادہ خزانے اپنی اندر رکھتا ہے اور وہ ان تمام پر کھولے جاتے ہیں جو ان کی تلاش کرتے ہیں۔ وہ کتاب جو اپنے اندر ایسی مکمل تعلیم رکھتی ہو، جو ہر زمانے کی ضرورتوں کے مطابق ہے اور جو تمام خرابیوں کا علاج مہیا کرے اور جو ہر زمانے میں اخلاقی و روحانی نشو و نما کے ذرائع بہم