انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 387

انوار العلوم جلد ۸ ۳۸۷ دورہ یورپ علاقوں میں جا کر انکی مشکلات کو دیکھے اور وہاں کے ہر طبقہ کے لوگوں سے مشورہ کر کے ایک سکیم تجویز کرے جس پر چلنے کیلئے سب مبلغین کو مجبور کیا جائے۔ ہر اک دن جو اس سکیم کے بغیر گزرتا ہے وہ ہمارے روپیہ کو ضائع کر رہا ہے۔ آج سے دو سال بعد اگر ہم ایسی سکیم تیار کریں اور وہ سکیم موجودہ طریق عمل کے خلاف ہو تو گویا اس دو سال کا تیس چالیس ہزار روپیہ ضائع گیا۔ فروعی تغییرات تو ہوتے رہتے ہیں اور ہوتے رہیں گے لیکن اصول اگر طے ہو جاویں تو پھر چنداں خطرہ نہیں رہتا۔ اس وقت تو بارہا ایسا ہوتا ہے کہ ایک امر کے متعلق میں مبالغوں کو لکھتا ہوں اور وہ جواب دیتے ہیں کہ آپکو یہاں کے حالات معلوم نہیں ہیں اور اکثر ایسا ہوا ہے کہ بعد میں میری ہی رائے درست نکلی ہے۔ اگر مجھے وہاں کے حالات معلوم ہوتے تو نہ وہ اس طرح مجھے لکھ سکتے اور نہ میں ان کی بات کو قبول کرتا۔ پس ان ضروریات کو مد نظر رکھ کر میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مذہبی کا نفرنس کی تحریک کو ایک خدائی تحریک سمجھ کر اس وقت با وجود مشکلات کے اس سفر کو اختیار کروں۔ مذہبی کانفرنس میں شمولیت کی غرض سے نہیں بلکہ مغربی ممالک کی تبلیغ کیلئے ایک مستقل سکیم تجویز کرنے اور وہاں کے تفصیلی حالات سے واقف ہونے کے لئے ، کیونکہ وہ ممالک ہی اسلام کے راستہ میں ایک دیوار ہیں جس دیوار کا توڑنا ہمارا مقدم فرض ہے۔ پس مذہبی کانفرنس کو میں جانے کا موجب نہ قرار دیتا ہوں اور نہ اس کے لئے جانے کو پسند کرتا ہوں ہاں یہ سمجھتا ہوں کہ اس دعوت کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے ہمیں ہمارا فرض یاد دلایا ہے۔ ہمارے دوستوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ بڑے کام بڑی بڑے کام بڑی قربانیاں چاہتے ہیں قربانیاں چاہتے ہیں۔ وہ مذہب جو ایک ملک میں بند رہتے ہیں کبھی دنیا میں غالب نہیں آتے ۔ ہند و تعداد میں دیکھ لو کہ چوبیس کروڑ ہیں یعنی ساری دنیا کے مسلمانوں کے برابر لیکن باوجود اس کے ان کو ہندوستان سے باہر کوئی عزت حاصل نہیں اور ہندو مذہب مذہبی حیثیت نہیں رکھتا۔ اس وجہ سے کہ یہ مذہب صرف ہندوستان میں ہے باہر نہیں۔ مذاہب کی ترقی کا راز ان کا دنیا میں پھیل جاتا ہے۔ ایک تھوڑی تعداد رکھنے والے لیکن دنیا میں پھیلے ہوئے مذہب کے لئے زیادہ موقع ہے کہ وہ دنیا میں پھیل جائے یہ نسبت اس مذہب کے جس کی تعداد زیادہ ہے لیکن وہ ایک ملک سے تعلق رکھتا ہے۔ پس اگر ہم اپنا فرض اشاعت مذہب کے متعلق ادا کرنا چاہتے ہیں تو تمام ممالک کی تبلیغ ہمیں مد نظر رکھنی چاہئے اور اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایک ایسی مکمل سکیم ہم تجویز کریں جس میں تمام اصولی امور کو مد نظر رکھ لیا جائے ورنہ بہت سا روپیہ ضائع جائے گا اور بار بار اپنے انتظام کو بدلنا ہو گا۔ (الفضل ۲۴ جون ۱۹۲۴ء)