انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 370

انوار العلوم جلد ۸ ۳۷۰ یاد ایام وہ قربانی یاد دلاتا ہے جس کا مستحق نہ میں اپنے پہلے سلوک کے سبب سے تھا نہ بعد کے سلوک نے مجھے اس کا مستحق ثابت کیا۔ وہ بیوی جن کو میں نے اس وقت تک ایک سونے کی انگوٹھی بھی شاید بنا کر نہ دی تھی اور جن کو بعد میں اس وقت تک میں نے صرف ایک انگوٹھی بنوا کر دی ہے انکی یہ قربانی میرے دل پر نقش ہے ۔ اگر ان کی اور قربانیاں اور ہمد ردیاں اور اپنی سختیاں اور تیزیاں میں نظر انداز بھی کردوں تو ان کا یہ سلوک مجھے شرمندہ کرنے کیلئے کافی ہے اس حسن سلوک نے نہ صرف مجھے ہاتھ دیئے جن سے میں دین کی خدمت کرنے کے قابل ہوا اور میرے لئے زندگی کا ایک نیا ورق الٹ دیا بلکہ ساری جماعت کی زندگی کے لئے بھی ایک بہت بڑا سبب پیدا کر دیا ۔ کیا ہی یہ بچی بات ہے کہ عورت ایک خاموش کا رکن ہوتی ہے۔ اس کی مثال اس گلاب کے پھول کی سی ہے جس سے عطر تیار کیا جاتا ہے۔ لوگ اس دکان کو تو یا د رکھتے ہیں جہاں سے عطر خریدتے ہیں مگر اس گلاب کا کسی کو خیال نہیں آتا جس نے مرکر ان کی خوشی کا سامان پیدا کیا۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ اگر اللہ تعالی یہ سامان پیدا نہ کرتا تو میں کیا کرتا۔ اور میرے لئے خدمت کا کون سا دروازہ کھولا جاتا اور جماعت میں روز مرہ بڑھنے والا فتنہ کس طرح دور کیا جا سکتا۔ دوسری تحریک اللہ تعالی نے حضرت اماں جان کے دل میں حضرت اماں جان۔ اجان کے احسان پیدا کی۔ اور آپ نے اپنی ایک زمین جو جو قریباً ایک ہزار روپیہ میں بکی الفضل کے لئے دے دی۔ مائیں دنیا میں خدا کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں مگر ہماری والدہ کو ایک خصوصیت ہے۔ اور وہ یہ کہ احسان صرف ان کے حصہ میں آیا ہے۔ اور احسان مندی صرف ہمارے حصہ میں آئی ہے۔ دوسری ماؤں کے بچے بڑے ہو کر ان کی خدمت کرتے ہیں۔ ہیں۔ مگر ہمیں یا تو اس کی توفیق ہی نہیں ملی کہ ان کی خدمت خدم کر سکیں۔ یا شکر گزار دل ہی نہیں ملے جو ان کا شکریہ ادا کر سکیں۔ بہر حال جو کچھ بھی ہو اب تک احسان کرنا انہیں کے حصے میں اور حسرت و ندامت ہمارے حصے میں۔ وہ اب بھی ہمارے لئے تکلیف اٹھاتی ہیں اور ہم اب بھی کئی طرح ان پر بار ہیں۔ دنیا میں لوگ یا مال سے اپنے والدین کی خدمت کرتے ہیں یا پھر جسم سے خدمت کرتے ہیں۔ کم سے کم میرے پاس دونوں نہیں ۔ مال نہیں کہ خدمت کر سکوں۔ یا شاید احساس نہیں کہ بچی قربانی کر سکوں۔ جسم ہے مگر کیا جسم؟ صبح سے شام تک جس کو ایک نہ ختم ہونے والے کام میں مشغول رہنا پڑتا ہے بلکہ راتوں کو بھی۔ پس بار منت کے اٹھانے کے سوا اور کوئی صورت نہیں۔ میں جب سوچتا ہوں حسرت و ندامت کے آنسو بہاتا ہوں کہ خدایا میرے ہے۔ اور