انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 367

انوار العلوم جلد ۸ نہیں کہہ سکتا کہ پھر وہ کیا تھے ۔ ۳۶۷ یاد ایام اس کے بعد ۱۹۰۶ء آیا۔ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم بیمار ہوئے۔ میری عمر ۱۹۰۶ء کا زمانه سترہ سال کی تھی۔ اور ابھی کھیل کو د کا زمانہ تھا۔ مولوی صاحب بیمار تھے ۔ اور ہم سارا دن کھیل کود میں مشغول رہتے تھے ایک دن یخنی لے کر میں مولوی صاحب کے لئے گیا تھا۔ اس کے سوا یاد نہیں کہ کبھی پوچھنے بھی گیا ہوں۔ اس زمانہ کے خیالات کے مطابق یقین کرتا تھا کہ مولوی صاحب فوت ہی نہیں ہو سکتے ۔ وہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد فوت ہوں گے۔ مولوی عبد الکریم صاحب کی طبیعت تیز تھی۔ ایک دو سبق ان کے پاس الف لیلہ کے پڑھے پھر چھوڑ دئیے ۔ اس سے زیادہ ان سے تعلق نہ تھا۔ حضرت مسیح موعود کار ایاں اور بایاں فرشتہ ہاں اُن دنوں میں یہ بھی خوب ہوا کرتی موعود تھیں کہ حضرت مسیح مو ع موعود علیہ السلام کا دایاں فرشتہ کون سا ہے اور بایاں کون سا ہے۔ بعض کہتے مولوی عبد الکریم صاحب دائیں ہیں۔ بعض حضرت استاذی المکرم خلیفہ اول کی نسبت کہتے کہ وہ دائیں فرشتے ہیں۔ علموں اور کاموں کا موازنہ کرنے کی اُس وقت طاقت ہی نہ تھی اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اس محبت کی وجہ سے جو حضرت خلیفہ اول مجھ سے کیا کرتے تھے میں نور الدینیوں میں سے تھا۔ ہم نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام سے بھی دریافت کیا اور آپ نے ہمارے خیال کی تصدیق کی۔ غرض مولوی عبد الکریم صاحب مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات اور اس کا اثر سے کوئی زیادہ تعلق مجھے نہیں تھا۔ سوائے اس کے کہ میں ان کے پر زور خطبوں کا مداح تھا اور ان کی محبت مسیح موعود علیہ السلام کا معتقد تھا۔ مگر جو نہی آپ کی وفات کی خبر میں نے سنی۔ میری حالت میں ایک تغیر پیدا ہوا۔ وہ آواز ایک بجلی تھی جو میرے جسم کے اندر سے گزر گئی۔ جس وقت میں نے آپ کی وفات کی خبر سنی مجھ میں برداشت کی طاقت نہ رہی۔ دوڑ کر اپنے کمرے میں گھس گیا۔ اور دروازے بند کر لئے۔ پھر ایک بے جان لاش کی طرح چار پائی پر گر گیا اور میری آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ وہ آنسو نہ تھے ایک دریا تھا۔ دنیا کی بے ثباتی ، مولوی صاحب کی محبت مسیح اور خدمت مسیح کے نظارے آنکھوں کے سامنے پھرتے تھے۔ دل میں بار بار خیال آتا تھا کہ حضرت مسیح موعود کے کاموں میں یہ بہت سا ہاتھ بٹاتے تھے۔ اب آپ کو بہت تکلیف ہو گی۔ اور پھر خیالات پر ایک پر وہ پڑ جاتا تھا۔