انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 350

انوارالعلوم جلد ۸ ۳۵۰ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کرتا ہے کیا تو نے خدا کی باتوں کے سمجھنے اور قبول کرنے میں بھی ویسی ہی آزادی دکھائی ہے جیسی کہ دوسرے امور میں؟ اور اے آئرلینڈ کے لوگو! تمہاری حب الوطنی اور جوش ضرب المثل ہیں مگر کیا تم نے اس محبت کا کچھ حصہ خدا کے لئے بھی نکالا ؟ کیا اس کے پانے کے لئے بھی تم نے ویسا ہی جوش دکھایا جیسا کہ اپنے ملک کی حکومت کے لئے؟ اے نو آبادیوں کے لوگو! کہ تم نو آبادیوں کے بسانے میں ایک خاص ملکہ رکھتے ہو اور نئی زمینوں کو شوق سے بساتے ہو مگر اب تک تم اس عرفان کے جزیرے کو جو علم کے سمند ر سے نکلا ہے بسانے میں کیوں غافل ہو ؟ میں پھر کہتا ہوں۔ دیکھو ! خدا نے برکت کا ہاتھ تمہارے سروں پر رکھا ہے اپنے ادب کے گھٹنے اس کے سامنے جھکا دو کہ وہ بادشاہوں کا بادشاہ اور شہنشاہوں کا شہنشاہ ہے ۔ اپنے سروں کو اس کے سامنے کرو تا وہ اسی طرح ان کو دین کی برکتوں سے ممسوح کرے جس طرح کہ اس نے انہیں دنیا کی برکتوں سے ممسوح کیا۔ خدا تعالیٰ کی نعمتیں محدود نہیں ہوتیں۔ وہ ہر اک ملک اور ہر اک قوم کا خدا ہے اور اس کا سچا پر ستار بھی شکلوں اور حد بندیوں کے چکر میں بندھنا پسند نہیں کرتا۔ وہ بے شک اپنی قوم اور اپنے ملک کا خیر خواہ ہوتا ہے لیکن اس کی نظر قوم اور ملک سے بالا جاتی ہے ۔ وہ ان حد بندیوں سے بہت اوپر رہتا ہے ۔ وہ تمام بنی نوع انسان کا خیر خواہ ہوتا ہے ۔ اور سب انسانوں میں اس برادرانہ تعلق کا نشان پاتا ہے جو رب العالمین خدا کی مخلوق ہونے کے سبب سے ان میں پایا جاتا ہے اس کے لئے کالے اور گورے ، مغربی اور مشرقی اپنے اور غیر اس کی نظر میں بحیثیت انسان ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ ہراک کی خیر خواہی اس کے دل میں راسخ اور ہر اک کی محبت اس کے قلب میں موجزن ہوتی ہے ۔ وہ در حقیقت رب العالمین خدا کا سچا مظہر ہوتا ہے ۔ پس میں اپنے خطاب کو کسی خاص قوم تک محدود نہیں رکھتا نہ کسی خاص ملک تک بلکہ میں سب دنیا کے لوگوں کو اس خدا کے پیغام کی طرف بلاتا ہوں جس نے اپنی تقسیم میں کسی قوم سے بخل نہیں کیا۔ جس ہراک نے اپنی رحمت کے دروازے ہر اک ملک کے لوگوں کے لئے یکساں طور پر کھلے رکھتے ہیں اور کہتا ہوں کہ اے امریکہ اور یورپ کے لوگو! اے آسٹریلیا اور افریقہ کے لوگو! اے ایشیا کے باشندو !!! خواب غفلت کو ترک کرو اور آنکھیں کھولو۔ خدا کی محبت کا سورج قادیان کی گمنام سرزمین سے چڑھا ہے تاہراک کو اس ازلی بادشاہ کے پیار کی یاد دلائے جو اسے