انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 346

انوار العلوم جلد ۸ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ترین معقول لوگوں میں سے ہے وہ کسی بات کو بلا دلیل ماننے کے لئے تیار نہیں ہر اک بات کو دلیل سے مانتا ہے اور دلیل سے منوانا چاہتا ہے۔ وہ علوم جدیدہ کا دشمن نہیں بلکہ ان کا مؤید ہے اور ان کو دین کا مخالف نہیں بلکہ دین کا خادم سمجھتا ہے ۔ غرض وہ ہر بات میں اپنی حریت کو قائم رکھتا ہے وہ نہ اپنے باپ دادوں کی سنی سنائی بات کو مانتا ہے اور نہ ہر مدعی علم کے دعوی کو تسلیم کر لیتا ہے اور ہر جدید بات پر فدا ہو جاتا ہے بلکہ ہر بات کو علم اور عقل سے موازنہ کر کے دیکھتا ہے اور ہر اک حقیقت کو اسی مقام پر رکھتا ہے جو اسے خدا تعالیٰ نے بخشا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک عجیب اثر اپنی جماعت میں یہ پیدا کر دیا ہے کہ آپ کی جماعت کے لوگ علم حاصل کرنے میں دوسرے لوگوں سے غیر معمولی طور پر بڑھ گئے ہیں۔ ہندوستان کی دوسری آبادی کی نسبت اس جماعت کے لوگ تعلیمی نسبت میں بہت زیادہ ہیں حالانکہ بوجہ غربت مدارس کا کوئی الگ انتظام نہیں ہے ۔ بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے بڑھاپے میں تعلیم حاصل کی ہے۔ عورتوں میں تعلیم کا اس قدر چر چاہے کہ قادیان کے بہت سے گھر مدرسے معلوم ہوتے ہیں۔ ستر ستر برس کی عورتیں قرآن کریم کو ترجمہ کے ساتھ پڑھ رہی ہیں ۔ ہر عمر کے لوگوں کا اک جمگھٹا مردوں میں سے بھی اور عورتوں میں سے بھی قادیان میں لگا رہتا ہے جو مختلف صوبوں سے اور ملکوں سے قادیان میں تعلیم دین حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں۔ غرض دنیا میں اگر کہیں مغرب و مشرق جمع نظر آتے ہیں تو وہ قادیان ہی ہے کیونکہ دوسری جگہوں میں اگر مغربی تعلیم ہے تو دین جو مشرق سے پیدا ہوا ہے ندارد ہے ۔ اور اگر دین ہے تو علوم جدید سے بے پرواہی ہے جن کا سرچشمہ آجکل مغرب ہے لیکن احمدی جماعت اور خصوصاً قادیان میں جو مرکز سلسلہ ہے یہ دونوں چیزیں اکٹھی نظر آتی ہیں۔ یہاں باوجود مسٹر کپلنگ (MR۔KIPLING) ۳۰۴ کے مخالف دعوی کے مغرب و مشرق اکٹھے نظر آتے ہیں۔ ایک طرف تو علوم جدیدہ کی تحصیل اور ان میں ترقی کرنے کا جوش ہے اور دوسری طرف مذہب سے اخلاص اور اس کی تعلیمات پر یقین اس درجہ پر پہنچا ہوا ہے کہ اس کے لئے جان اور مال اور وطن کی قربانی ایک حقیر شئے نظر آتی ہے اور مذہب کے چھوٹے سے چھوٹے حکم کو اس کی اصل شکل اور صورت میں احتیاط سے پورا کیا جاتا ہے۔ احمدیوں میں عورتوں کے حقوق کی ادائیگی اور ان کو جائز قیود سے آزاد کرنے کا بھی خاص خیال پایا جاتا ہے مگر باوجود اس کے وہ مذہب کے خلاف کوئی بات نہیں کرتے ۔ ان میں مذہبی روا