انوارالعلوم (جلد 8) — Page 337
انوار العلوم جلد ۸ ۳۳۷ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے لحاظ سے ابد کہہ سکتے ہیں تب خدا کی رحمت جوش میں آجائے گی۔ چنانچہ رسول کریم الل فرماتے ہیں۔ يَأْتِي عَلَى جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَيْسَ فِيهَا أَحَدٌ وَ نَسِيمُ الصَّبَا تُحَرِّكُ أَبْوَابَهَا ۲۹۵۔ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ جہنم خالی ہو جائے گی اور اس کے دروازوں کو ہو ا ہلائے گی۔ یعنی کوئی شخص عذاب میں مبتلاء نہیں رہے گا۔ اصل میں یہ خیال کہ دوزخی ہمیشہ عذاب میں رہیں گے اِس حکمت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ خدا عذاب کیوں دے گا؟ جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں اسلام کا دعوی ہے کہ انسان اپنی بداعمالی سے خود عذاب پیدا کرتا ہے ورنہ خدا تعالیٰ رحم کرنے والا ہے ۔ وہ سزا دینا نہیں چاہتا مگر چونکہ انسان اپنی روحانی قوتوں کو خراب کر لیتا ہے وہ ان انعامات کے محسوس کرنے کے قابل نہیں ہو گا جو اگلے جہان میں ملیں گے پس وہ عذاب چکھے گا۔ مگر خدا تعالیٰ کے رحم نے ایک یہ قانون بھی مقرر کیا ہوا ہے کہ بیماری میں ہی علاج نکل آتا ہے ۔ پس جس طرح جسمانی بیماریوں کے علاج ہو جاتے ہیں ان عذابوں سے جو انسان اگلے جہان میں محسوس کرے گا بدکاروں کی اصلاح ہو جائے گی اور وہ نعمائے جنت کو محسوس کرنے کے قابل ہو جائیں گے تب ان کو جنت میں داخل کر دیا جائے گا اور خدا کی رحمت مکمل ہو گی اور انسان کی پیدائش کی غرض پوری ہوگی اور انسان وہیں جاپہنچے گا جہاں کے لئے وہ پیدا کیا گیا تھا۔ کیا جنت میں عمل ہو گا یا عمل ختم ہو جائے گا؟ ایک اور اہم سوال ہے جس کا جواب دیئے بغیر مابعد الموت حالت کا کا بیان نامکمل رہ جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس ابدی زندگی میں انسان کیا کرتا ہے ؟ کیا اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں؟ اور وہ اب ایک بوڑھے آدمی کی طرح کھانے پینے میں ہی مصروف رہتا ہے یا کچھ کرتا بھی ہے؟ اسلام اس سوال کا جواب یہ دیتا ہے کہ عمل ہی انسان کی زندگی ہے ۔ عمل سے انسان کو الگ کر دینا گویا اس کی زندگی کو باطل کر دینا ہے اور زندگی بلا عمل در حقیقت موت سے بد تر ہے ۔ اگر بے عمل کی زندگی بھی کوئی اچھی چیز ہوتی تو اس دنیا میں بھی آرام طلب لوگ سب سے بہتر سمجھے ا جاتے۔ مگر جس شخص نے کام کی لذت دیکھی ہے وہ جانتا ہے کہ اصل لذت اور سرور کام کرنے اور ترقی کرنے میں ہے خالی بیٹھ رہنا ایک مختل الحواس انسان کے لئے گو اچھا ہو مگر صحیح الدماغ آدمی کبھی اس کو اچھا نہیں سمجھ سکتا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے نُورُهُم