انوارالعلوم (جلد 8) — Page 335
انوار العلوم جلد ۸ ۳۳۵ احمدیت یعنی حقیقی اسلام نظارے اس دنیا میں موجود ہیں اور انسان ان نظاروں سے دوزخ کی کیفیت کو اچھی طرح معلوم کر سکتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جس طرح نیکی ایک مستقل وجود کا نام ہے اور بدی اس کے غلط استعمال کا نام ہے اسی طرح نعمائے الہی اصل ہیں اور عذاب اس خرابی کا نتیجہ ہے جو انسان خود اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔ رسول کریم ال سے ایک شخص نے دریافت کیا یا رسول اللہ ! جب اللہ تعالی فرماتا ہے کہ جنت کا پھیلاؤ آسمان اور زمین کے برابر ہے تو پھر دوزخ کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا جب دن آتا ہے تو رات کہاں ہوتی ہے ؟ ۲۹ ۔ یہی حال جنت اور دوزخ کا ہے۔ اب یہ مراد اس قول سے نہیں ہو سکتی کہ ایک زمانے میں سب لوگ دوزخ میں ہونگے اور ایک زمانہ میں سب لوگ جنت میں ۔ جس طرح ایک وقت رات آتی ہے اور دوسرے وقت دن ۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ رات بھی ساری دنیا پر آتی ہے اور دن بھی ساری دنیا پر چڑھتا ہے مگر وہ جو سورج کے نیچے آجاتے ہیں ان کے لئے دنیا پر دن ہو جاتا ہے اور دوسروں کے لئے رات۔ اسی طرح وہ لوگ جو خدا کے فضل کے نیچے آجائیں گے ان کے لئے وہ جگہ جنت ہو جائے گی دوسروں کے لئے دوزخ - پس جو لوگ خدا تعالی کے فضل سے حواس سبعہ درست رکھتے ہونگے وہ جنت کی لذتیں محسوس کریں گے اور جو لوگ ان حواس کو خراب کر چکے ہوں گے ان کے لئے یہی نعمتیں عذاب اور سخت عذاب ہوں گی ۔ نیک تو اسی قدر گرمی محسوس کرے گا جو اس کے لئے خوشی کا موجب ہو گی۔ لیکن بد ایسی شدید آگ محسوس کرے گا کہ وہ اپنے شعلوں سے اس کو جھلس دے گی جس طرح ایک بیمار آگ دیکھتا ہے اور اس کی گرمی بھی محسوس کرتا ہے ۔ نیک ٹھنڈے پانی کے مشابہ روحانی نعمتوں کو حاصل کرے گا لیکن جب بد کو پانی ملے گا وہ اس کو ایسا سخت گرم پائے گا کہ اس کے منہ کو جھلس دے گا۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں ہر شخص کے لئے جنت اور دوزخ میں جگہ بنی ہوئی ہے ۔ ۲۹۔ جو جنت میں جاتے ہیں وہ دوزخیوں وہ دوزخیوں کی جگہ لے لیتے ہیں اور جو دوزخ میں جاتے ہیں وہ جنتیوں کے حصے کی جگہ بھی لے لیتے ہیں اس سے بھی یہی مراد ہے کہ جنتی سب راحت کو لے لیتا ہے اور سزا یافتہ سب عذاب کو ۔ یہ محاورہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی نعمت سے فائدہ نہ اٹھا سکے تو وہ دوسرے کو کہتا ہے کہ تو نے بھی میرا حصہ لے لیا ہے قرآن کریم میں اللہ تعالی دوزخ کے متعلق فرماتا ہے وَإِنْ مِنْكُمُ الأَوَارِدُهَا ۲۹۲ پھر فرماتا ہے ثُمَّ نَجِّي الَّذِينَ اتقوا ۲۹۳ ہر ایک شخص دوزخ میں وارد ہو گا۔ پھر ہم متقیوں کو اس کے عذاب سے بچالیں گے