انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 329

انوار العلوم جلد ۸ ۳۲۹ احمدیت یعنی حقیقی اسلام نے دیکھا کہ معا ایک غنودگی کی حالت مجھ پر طاری ہوئی اور ایک پیاس بجھانے والی چیز میرے منہ میں ڈالی گئی۔ یہ کیفیت ایک سیکنڈ کی تھی اس کے بعد وہ حالت بدل گئی اور میں نے دیکھا کہ وہ پیاس کی حالت بالکل جاتی رہی اور یوں معلوم ہوا کہ جس طرح خوب پانی پی لیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسے بہت سے تجربات لکھے ہیں حتی کہ آپ نے عین بیداری میں روحانی جسم کے ساتھ حضرت مسیح ناصری کو دیکھا ہے اور دیر تک ان سے مسیحیت کی خرابیوں اور ان کی اصلاح کے متعلق گفتگوئیں کی ہیں اور ایک دفعہ تو آپ نے ان کے ساتھ مل کر کھانا بھی کھایا ہے۔ اب یہ باتیں ان لوگوں کے لئے جو ان علوم سے واقف نہیں ایک وہم اور دماغ کی خرابی سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتیں مگر جو لوگ صاحب تجربہ ہیں اور روحانی علوم کے ماہر ہیں وہ ان کیفیتوں کو خوب اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ میری مراد روحانی علوم سے اس جگہ دماغی کیفیات نہیں ہیں جو مسمریزم وغیرہ کے ذریعہ سے ظاہر ہوتی ہیں ۔ وہ بالکل الگ چیز ہیں اور ان کا روحانی حالتوں سے کچھ تعلق نہیں ہے روحانی حالتوں کی کیفیات ہی اور ہیں۔ غرض یہ کہ خواب کا عالم اور کشف کا عالم کا عالم عالم اُخروی کے لئے بطور مثال کے ہے اور اس پر انسان اس عالم کا قیاس کر سکتا ہے جس طرح خواب میں سب چیزیں روحانی ہوتی ہیں مگر پھر ایک جسم بھی رکھتی ہیں اسی طرح اگلے جہاں میں ہو گا کہ وہاں کی چیزیں جسم تو رکھیں گی لیکن وہ جسم روحانی ہو گا اور ان کے علاوہ ان سے اعلیٰ کیفیات خالص روحانی ہوں گی۔ خدا قرآن کریم اس واقعہ کی حقیقت یہ بیان کرتا ہے کہ اس دنیا کے اعمال متمثل ہو کر وہاں انسان کے سامنے آئیں گے وہاں کا پانی نہیں ہو گا مگر اس دنیا کا عمل بر شریعت ۔ اور دودھ نہیں ہو گا مگر علم الہی جو اس دنیا میں حاصل کیا گیا تھا اور میوے نہیں ہونگے مگر وہی لذت اور سرور جو اطاعت میں روح اس دنیا میں محسوس کرتی تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كُلَّ اتعالی کی اطاعت : إِنْسَانِ الْزَمْنَهُ طَئِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيِّمَةِ كِتُبَا يَلْقُهُ مَنْشُورًا إِقْرَا كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا - ۲۷۷۔ ہر ایک انسان کے ساتھ اس کے عمل لگے چلے جاتے ہیں وہ کبھی اس سے جدا نہیں ہوتے گو ان کے اثرات مخفی ہوتے ہیں لیکن قیامت کے دن ہم ان اعمال کو اس طرح کر دیں گے گویا وہ ایک کتاب ہے جسے وہ کھول کر پڑھ رہا ہے یعنی اس وقت وہ اپنے اثرات کو ظاہر کر دیں گے اور ایک ایک عمل جو انسان نے اس دنیا میں کیا تھا وہ اپنا نتیجہ وہاں ظاہر کرے گا اور اس دنیا کی زندگی کو اپنے مطابق ڈھالے گا۔ پھر فرماتا