انوارالعلوم (جلد 8) — Page 325
انوار العلوم جلد ۸ ۳۲۵ احمدیت یعنی حقیقی اسلام نے اس دنیا میں مناسبت پیدا کر لی تھی پاتا رہتا ہے گو قبر کی حالت سے زیادہ۔ اور پھر آخر میں جب اس کی نئی پیدائش بالکل مکمل ہو جاتی ہے تو اس کی آخری حالت اس دنیا کے جو ان انسان کے مشابہ ہوتی ہے جس نے اپنے اپنے احساسات احساسات اور اور اکات بات کو کو کا کامل کر لیا اور اسے اس آخری اور دکھ د یا سکھ کے کامل احساسات والی حالت کی طرف منتقل کر دیا جاتا ہے جسے جنت یا دوزخ کہتے ہیں۔ پس زندگی کا زمانہ کبھی ختم نہیں جزاء و سزا میں کوئی وقفہ نہیں ۔ صرف نئی حالتوں کے ساتھ مطابقت حاصل کرنے کے لئے روح کو دو ایسے زمانوں میں سے گزرنا پڑتا ہے جو آخری اور مکمل حالت سے ادنیٰ درجہ کے ہیں لیکن اس تک پہنچنے کے لئے ضروری ہیں۔ انسانی روح برابر ترقیات کی طرف قدم مارتی چلی جاتی ہے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہوتی چلی جاتی ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے الَّذِينَ تَتَوَفَّهُمُ الْمَلَئِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ فَاتَّقُوا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوءٍ بَلَى إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ - فَادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خُلِدِينَ فِيهَا فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِرِينَ ٢٨ - الَّذِينَ تَتَوَفَّهُمُ الْمَلَئِكَةُ طَيِّبِينَ يَقُولُونَ سَلِّمُ عَلَيْكُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ۲۶۹۔ وہ لوگ جن کی فرشتے روح قبض کرتے ہیں در آنحالیکہ وہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے وہ لوگ فرشتوں کو صلح کا پیغام دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو کوئی برا کام نہیں کر رہے تھے ۔ وہ کہیں گے کہ ہاں ہاں تم بڑے کام کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو جانتا ہے ۔ جاؤ دوزخ کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ اور اس میں رہو۔ پس تکبر کرنے والوں کا کیا ہی برا ٹھکانا ہے ۔ اور جن لوگوں کی فرشتے اس حالت میں روح قبض کریں گے کہ وہ پاک ہوں گے اور فرشتے ان کو کہیں گے تم پر سلامتی ہو ۔ جاؤ اپنے اعمال کے سبب سے جنت میں داخل ہو جاؤ۔ رسول کریم الله فرماتے ہیں إِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَةً مِّنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ أَوْحُفْرَةً مِنْ حُفَرِ النَّارِ ۲۷۰۔ ایک قبر جنت کا باغیچہ ہوتی ہے اور ایک قبر دوزخ کا گڑھا ہوتی ہے۔ پس معلوم ہوا کہ انسانی روح برابر زندگی کی حالت میں رہتی ہے اور اس سڑک پر مرنے کے ساتھ ہی چل پڑتی ہے جو اس نے اپنے اعمال سے اپنے لئے تیار کی تھی۔ مذکورہ بالا حدیث میں جو قبر کا لفظ آیا ہے اس سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ اس سے وہ مٹی کی قبر مراد ہے جس میں جسم رکھا جاتا ہے نہیں بلکہ اس سے مراد وہ مقام ہے جس میں ارواح رہتی ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ ۲۷۱، ہر انسان کو خداتعالی مار کر