انوارالعلوم (جلد 8) — Page xxxv
۲۸ غرض اس سفر میں ایسی کامیابی حاصل ہوئی کہ جو انسانی وہم و خیال سے بالا تر ہے اور جس بات کی طرف میں سرزمین ہند پر قدم رکھتے ہوئے جماعت کو توجہ دلاتا آیا ہوں آج بھی دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ساری کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں اور وہی حقیقی شکریہ کا مستحق ہے اور جماعت کو تیار ہو جانا چاہئے کہ خدا نے جو بیج بویا ہے اس کی آب پاشی کریں۔ یہ بیج میسر نہ آسکتا تھا اگر ہم اس سفر کے بغیر کوشش کرتے رہتے۔" جماعت کو مزید قربانیوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ نے فرمایا ۔ پس میں آپ لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اس سفر میں جو کامیابیاں ہوئی ہیں ان کے شکریہ کو عملی جامہ پہنائیں۔ اس وقت جو مالی مشکلات درپیش ہیں انہیں دور کرنے کی کوشش کریں۔ اب پہلے سے بھی زیادہ توجہ ، اخلاص ، محبت اور اتحاد کی ضرورت ہے۔" احمدی افغانان قادیان کے ایڈریس کا جواب احمدی افغانان قادیان نے بھی ۲۶ نومبر کو حضور کی خدمت میں ایڈریس پیش کیا اس کے جواب میں آپ نے افغان بھائیوں کا شکریہ ادا کیا۔ مولوی نعمت اللہ خان صاحب شہید کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ۔ قیام انگلستان کے دوران بعض پادریوں نے مولوی صاحب کی شہادت کے واقعہ کے بعد کہا کہ اسی طرح کے حالات یا مسیح کے متبعین پر آئے تھے یا آپ کی ९९ جماعت پر آئے ہیں گویا مسیح اول سے مشابہت دی گئی ہے ۔ " آپ نے فرمایا کہ ۔ انتقام لینے کا طریق یہ ہے کہ ہم ان غلط خیالات اور بد عقائد کو مٹائیں جن کی وجہ سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تذکرة الشہادتین میں اپنے الہام میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ اس علاقہ کی طرف خاص توجہ کی ضرورت ہے۔ ہماری غیرت کا تقاضا یہی ہے کہ ان برائیوں کو مٹا دیں۔ چار حرف کا۔ ب۔ ل ہماری آنکھوں کے سامنے رہنے چاہئیں۔"