انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 302

انوار العلوم جلد ۸ ۳۰۲ ا نے حکم فرمایا کہ اسے آزاد کر دو۔ ۲۴۸۔ احمدیت یعنی حقیقی اسلام اسی طرح ایک اور صحابی فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ ایک غلام کو مارنے لگا مجھے اپنے پیچھے سے ایک آواز آئی جسے میں پہچان نہ سکا اتنے میں میں نے دیکھا کہ رسول کریم ال چلے آرہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اے ابو مسعود ! جس قدر تجھ کو اس غلام پر مقدرت حاصل ہے اس سے کہیں زیادہ تجھ پر خدا کو مقدرت حاصل ہے وہ کہتے ہیں ڈر کے مارے میرے ہاتھ سے کوڑا جا پڑا اور میں نے کہا یا رسول اللہ ! یہ غلام خدا کے لئے آزاد ہے ۲۴۔ آپ نے فرمایا اگر تو ا سے آزاد نہ کرتا تو آگ تیرا منہ جھلستی اسی طرح رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص اپنے نوکر سے وہ کام نہ لے جو وہ کر نہیں سکتا اور اگر زیادہ کام ہو تو خود ساتھ لگ کر کام کرائے ۔ ۲۵۰ اسی طرح آپ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کا نو کر کھانا پکا کر اس کے سامنے رکھے تو اصل حق تو یہ ہے کہ وہ اسے ساتھ بٹھا کر کھلائے اگر ایسا نہ کر سکے تو کم سے کم اس میں سے اس کو حصہ دیدے کیونکہ آگ کی تکلیف تو اسی نے اٹھائی ہے۔ ۲۵۱ مزدوری کے متعلق آپ فرماتے ہیں کہ مزدور کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اس کی مزدوری اس کو ادا کر دی جائے ۲۵۲۔ اور اس کے حق کے متعلق فرماتے ہیں کہ جو شخص مزدور کو اس کا حق ادا نہیں کر تا قیامت کے دن میں اس کی طرف سے جھگڑوں گا۔ ۲۵۳۔ جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر کوئی مالک مزدور کی مزدوری نہ دے تو حکومت کا فرض ہے کہ اس کو دلوائے۔ اسی طرح ایک حق مزدور کا شریعت نے یہ مقرر کیا ہے کہ اگر اس کو مزدوری کافی نہیں دی جاتی تو وہ حکومت کے ذریعہ سے اپنی دادرسی کرائے اور اگر مزدور سیاسی یا تمدنی حالات کی وجہ سے مجبور ہوں کہ اس آقا کے ساتھ کام کریں تو حکومت کا فرض ہو گا کہ دونوں فریق کا حال سن کر مناسب فیصلہ کرے۔ امراء اور غرباء اور حکام کے تعلقات اور اختیارات پر ایک اجمالی نظر یہ ایک اہم سوال ہے کہ مختلف لوگوں کے حقوق کا توازن کس طرح قائم رکھا جائے؟ اور