انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 297

انوا را اعلوم جلد ۸ ۲۹۷ احمدیت یعنی حقیقی اسلام طرف سے رونے کی آواز آرہی ہے ادھر گئے تو دیکھا ایک عورت کچھ پکا رہی ہے اور دو تین بچے رو رہے ہیں۔ اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے اس نے کہا کہ دو تین وقت کا فاقہ ہے کھانے کو کچھ پاس نہیں بچے بہت بیتاب ہوئے تو خالی ہنڈیا چڑھادی تا یہ بہل جائیں اور سو جائیں۔ حضرت عمر یہ بات سن کر فوراً مدینہ کی طرف واپس آئے آٹا گھی گوشت اور کھجوریں لیں اور ایک بوری میں ڈال کر اپنے خادم سے کہا کہ میری پیٹھ پر رکھ دے۔ اس نے کہا حضور میں جو موجود ہوں میں اٹھا لیتا ہوں آپ نے جواب دیا بے شک تم اس کو تو اٹھا کر لے چلو گے مگر قیامت کے دن میرا بوجھ کون اٹھائے گا؟ ۲۳۷۔ یعنی ان کی روزی کا خیال رکھنا میرا فرض تھا اور اس فرض میں مجھ سے کو تاہی ہوئی ہے اس لئے اس کا کفارہ میں ہے کہ میں خود اٹھا کر یہ اسباب لے جاؤں اور ان کے گھر پہنچاؤں ۔ چونکہ سارے ملک کی خبر ملنی مشکل ہوتی ہے اس لئے اسلامی حکومت میں یہ انتظام ہوتا تھا کہ سب ملک کی مردم شماری کی جاتی تھی اور پیدائش اور موت کے رجسٹر مقرر کئے گئے تھے اور ان کی غرض آجکل کی حکومتوں کی طرح حکومت کے خزانوں کا بھرنا نہیں بلکہ خزانوں کا خالی کرنا ہوتی تھی۔ ان رجسٹروں کے ذریعے سے ملک کی عام حالت معلوم ہوتی رہتی تھی اور جو لوگ محتاج ہوتے ان کی مدد کی جاتی۔ مگر اسلام جہاں غرباء کی خبر گیری کا حکم دیتا ہے وہاں جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں سستی اور کاہلی کو بھی مٹاتا ہے۔ ان وظائف کی یہ غرض نہ تھی کہ لوگ کام چھوڑ بیٹھیں بلکہ صرف مجبوروں کو یہ وظائف دیئے جاتے تھے ورنہ سوال سے لوگوں کو روکا جاتا تھا۔ ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے ایک سائل دیکھا اس کی جھولی آٹے سے بھری ہوئی تھی آپ نے اس سے آٹا لیکر اونٹوں کے آگے ڈال دیا اور فرمایا اب مانگ ۔ ۲۳۸۔ اسی طرح یہ ثابت ہے کہ سوالیوں کو کام کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ دسرا فرض حکومت کا عدل کا قائم کرنا ہے۔ حکومت کا کام کا کام ہے کہ قضاء کا اعلیٰ درجہ کا انتظام کرے اسلام نے اس کا خاص طور پر حکم دیا ہے اور قضاء کے لئے یہ احکام مقرر کئے ہیں کہ وہ کسی کی رعایت نہ کریں ، رشوت نہ لیں ، ان کے پاس کوئی سفارش نہ کی جائے اور نہ وہ سفارش کو قبول کریں ، شہادت اور ثبوت پر مقدمہ کا فیصلہ کریں ، شہادت اور ثبوت مدعی سے طلب کریں ور نہ مدعا علیہ سے قسم لیں ، شہادت کے موقع پر دیکھ لیں کہ شہادت دینے والے لوگ ثقہ اور