انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxiii of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page xxxiii

۲۶ کابل کی حمایت میں احمدیوں کو مرتد قرار دے کر واجب القتل ٹھرایا ہے۔ مکرم ایڈیٹر صاحب نے یہ اطلاع بھی دی کہ بھائیوں کے اخبار میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں حضور کے حیفا (فلسطین) تشریف لے جانے کا ذکر کر کے کچھ شکایات بیان کی گئی ہیں۔ اس خط کے جواب میں حضور نے اصل واقعات بیان کر کے معترضین کو مسکت جواب دیتے ہیں۔ لندن کے نو مسلموں کو پیغام احمدیت ۱۲۔ اکتوبر ۱۹۲۴ء کو لندن کے نو مسلم حضرات کے نام حضور کا ایک پیغام سنایا گیا۔ جس کارواں ترجمہ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے بڑی عمدگی سے کیا۔ اس پیغام میں حضور نے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا تعارف کرواتے ہوئے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا دعوی آپ پر ایمان لانے کی ضرورت اور جماعت کی دینی خدمات پیش فرمائیں۔ اس کے بعد ایک مجلس سوال و جواب بھی ہوئی جس میں حضور نے مختلف سوالات کا نہایت مؤثر انداز میں جواب دیا۔ مذہبی مسائل پر گفتگو ایک نو مسلمہ کی دعوت پر حضور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ان کے ہاں تشریف لے گئے۔ اس خاتون اور ایک اور معزز تعلیم یافتہ خاتون سے حضور کی مندرجہ ذیل اہم سوالات کے متعلق نهایت مفید اور مؤثر گفتگو ہوئی۔ آپ دوسرے مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں؟ اسلام کیا ہے ؟ اسلام کے اصول کیا ہیں ؟ آخری سوال کے جواب میں حضور نے اسلام کی اخلاقی تعلیم کا دوسرے مذاہب سے مختصر موازنہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ " یہ حقیقی تعلیم ہے جو علم النفس اور اصول اصلاح کے موافق عملاً جاری ہو سکتی ہے۔ اب آپ مقابلہ کر کے دیکھیں کہ انجیل کی تعلیم کو اس سے کیا نسبت۔ میں کہتا ہوں کہ ایسی جامع تعلیم دنیا کی کسی کتاب میں نہیں۔"