انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 285

انوار العلوم جلد ۸ ۲۸۵ احمدیت یعنی حقیقی اسلام بارود سے چلنے والے ہتھیاروں کے متعلق تو اور بھی سختی سے یہ حکم چسپاں ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس حکم پر عمل نہ کرنے کے سبب سے سینکڑوں آدمیوں کی محض غلطی سے جانیں جاتی رہتی ہیں۔ پھر مسلم شہری کا یہ بھی فرض ہے کہ کبھی ہمت نہ ہارے اور مایوس نہ ہو بلکہ مصائب اور تکالیف میں ایک پہاڑ کی طرح کھڑا رہے۔ حوادث کی آندھیاں چلیں اور آفات کی موجیں اٹھ اٹھ کر اس سے ٹکرائیں مگر وہ مقابلہ سے نہ گھبرائے بلکہ ان کو دبانے کی کوشش کرے۔ یہاں تک کہ یا تو اسے موت آجائے یا وہ ان مشکلات کو زیر کر کے اپنے لئے کامیابی کا راستہ کھول لے۔ وہ بزدلی سے اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کے لئے خود کشی نہیں کرتا کیونکہ اس کا مذہب اسے اس بزدلی سے روکتا ہے اور نڈر اور بہاد رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ ہے ایک مسلم شہری۔ مگر اس وقت میری مراد مسلم شہری سے وہ مسلم نہیں جو اپنے مذہب کو بھول کر مغرب کی طرف ایک پیاسے کی طرح دیکھ رہا ہے بلکہ اس مسلم سے میری مراد وہ مسلم ہے جو آج سے تیرہ سو سال پہلے کا تھا اور جسے اب پھر مسیح موعود علیہ السلام دنیا میں لائے ہیں۔ بتائی کے متعلق احکام عام مسلم شری کے فرائض کی چند مثالیں بیان کرنے کے بعد اپن میں وہ احکام بیان کرتا ہوں جو تمدن کا ایک زبردست جزو ہیں لیکن عام طور پر لوگ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے میری مراد ان احکام سے بتائی کے حقوق ہیں۔ کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی جس کے بتائی کا پورا انتظام نہ ہو ۔ اسلام نے اس شاخ تمدن کے احکام کو بھی نہایت عمدگی سے بیان کیا ہے۔ بتائی کے لئے حکم ہے کہ انکا کوئی گارڈین مقرر کیا جائے جو قریبوں کی موجودگی میں سب سے قریبی رشتہ دار ہونا چاہئے ان کے اموال کو بالکل محفوظ رکھا جائے ۔ جو گارڈین مقرر ہو اگر غریب ہو تو بقدر محنت اسے کچھ معاوضہ دیا جائے اگر امیر ہو تو مفت کام کرے ۔ تیموں کو جاہل نہیں رکھنا چاہئے بلکہ جو پیشہ ان کے مناسب حال ہو ان کا آبائی پیشہ یا جس کی طرف ان کو خاص رغبت ہو ان کو سکھایا جائے۔ ان کے اخلاق کا خاص طور پر خیال رکھا جائے نہ تو اس قدر آزاد رکھا جائے کہ ان کے اخلاق بگڑ جائیں اور نہ اس قدر سختی کی جائے کہ ان کے ان کے طبعی قوی بالکل دب جائیں! ترقی کرنے کا مادہ ہی بالکل جاتا رہے۔ ان سے معاملہ کرتے ہوئے محبت اور پیار کے پہلو کو خاص طور پر مد نظر رکھا جائے کیونکہ ان کے دل نرم ہوتے ہیں اور وہ اس نعمت سے جوس اسے جو سب سے زیادہ اور