انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 276

انوار العلوم جلد ۸ ۲۷۶ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ۲۰۱ رکھ کر جب کہ آپ کے پاؤں زمین پر گھٹتے جاتے تھے ایک بیوی کے گھر سے دوسری بیوی کے گھر جاتے تھے۔ حتی کہ وفات سے چند دن : دن پہلے آپ کی بیویوں نے درخواست کی کہ آپ کو تکلیف ہوتی ہے آپ ایک ہی گھر میں آرام سے رہیں اور خود ہی انہوں نے عائشہ " نہ کا گھر تجویز کیا۔ ۲۔ بعض ایک سے زیادہ شادیوں کو ظلم قرار دیتے ہیں مگر یہ ظلم نہیں کیونکہ ایسی ضرورتیں پیش آتی ہیں جب شادی نہ کرنا ظلہ ۔ شادی نہ کرنا ظلم ہو جاتا ہے ۔ ایک عورت جو پاگل ہو جائے کوڑ ڑھی ہو جائے یا اس کی اولاد نہ ہو اس وقت اس کا خاوند کیا کرے ؟ اگر وہ دوسری شادی نہیں کرے گا اور کسی بدکاری وغیرہ میں مبتلاء ہو گا تو یہ اس کا اپنی جان اور سوسائٹی پر ظلم ہو گا اور اگر وہ کوڑھی ہے تو اپنی جان پر ظلم ہو گا اگر اولاد نہیں ہوئی تو قوم پر ظلم ہو گا اور اگر وہ پہلی عورت کو جدا کر دے تو یہ حد درجہ کی بے حیائی اور بے وفائی ہوگی کہ جب تک وہ تندرست رہی یہ اس کے ساتھ رہا اور جب وہ اس کی کی مدد مدد ک کی سب اوقات سے زیادہ محتاج تھی اس نے چھوڑ دیا۔ غرض بہت سے موا مواقع ایسے پیش آتے ہیں کہ دوسری شادی جائز ہی نہیں کہ یہ بہت کمزور لفظ ہے بلکہ ضروری نہیں بلکہ ایک قومی فرض ہو جاتا ہے۔ میاں بیوی کے تعلقات کے بعد اولاد پیدا ہوتی ہے جو تمدن کی گویا دوسری اینٹ ہیں اولاد کے متعلق اسلام نے یہ حکم دیا کہ انکی عمدگی سے پرورش کی جائے ۔ والدین پر ان کا پالنا اور ان کی ضروریات کو پورا کرنا فرض ہے ان کو خرچ کی تنگی کی وجہ سے مار دینا جیسا کہ وحشی قبائل میں رواج تھا بصورت لڑکیوں کے بوجہ تکبر کے مار دینا جیسا کہ کئی جنگی قوموں میں دستور تھا منع ہے۔ اولاد کی پیدائش کے متعلق حکم دیا کہ خاوند اگر چاہے کہ اس کے اولاد نہ ہو تو اس کے لئے عورت سے اجازت لینا ضروری ہو گا بغیر عورت کی اجازت کے اولاد کو روکا نہیں جا سکتا۔ ۲۰۲ ۔ پھر فرمایا کہ بچوں کو علم اور اخلاق سکھائے جائیں اور بچپن سے انکی تربیت کی جائے تاکہ وہ بڑے ہو کر مفید بن سکیں۔ اولاد کے درمیان بھی یکساں سلوک کرنے کا حکم دیا۔ بچپن میں انکی خواہشات اور ضروریات کے مطابق سلوک تو خیر اوربات ہے مگر جب وہ بڑے ہو جائیں تو حکم دیا۔ کہ جو تحفہ دے وہ سب کو دے ورنہ کسی کو نہ دے۔ او کو نہ دے۔ اولاد کو تربیت کی خاطر اگر مارنا پڑے تو حکم دیا کہ منہ پر نہ مارے کہ تمام آلات حواس اس میں جمع ہیں اور ان کے نقصان سے بچہ کی آئندہ زندگی پر اثر پڑتا ہے۔ لڑکیوں کی تربیت کے متعلق خاص حکم ہے۔ رسول کریم اللہ نے فرمایا جس کے گھر میں