انوارالعلوم (جلد 8) — Page 273
انوارالعلوم جلد ۸ ۲۷۳ احمدیت یعنی حقیقی اسلام عورتوں سے نیک معاملہ کرنے کے متعلق میری نصیحت کو یاد رکھو ۔ اس طرح فرمایا لَا يَفْرَى مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا أَخَرَ ١٩٥۔ خاوند اپنی بیوی سے نفرت نہ کرے اس وجہ سے کہ اس میں کوئی عیب ہے کیونکہ اگر اس میں کوئی عیب ہے تو کوئی خوبی بھی ہے۔ اسی طرح آپ نے فرمایا عورت کا کا حق اس کے خاوند پر یہ ہے کہ وہ جیسا پر یہ ہے کہ وہ جیسا کپڑا خود اپنے ویسا اسے پہنائے اور جیسا کھانا خود کھائے ویسا اسے کھلائے اور یہ کہ اسے گالی نہ دے اور اس سے الگ جا کر نہ رہے ۱۹ ۔ پھر فرمایا کہ کسی مرد کے ۔ مرد کے لئے جائز نہیں کہ دن ، که دن رات عبادت یا دوسرے کاموں میں مشغول رہے اور اپنی بیوی کے حقوق کو نظر انداز کر دے۔ اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے وقت میں سے ایک حصہ اپنی بیوی کے لئے بھی فارغ کرے ۔ ۱۹۷۔ اسی طرح فرمایا کہ خِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَاءِ هِم ۱۹۸ ، تم میں سے اچھے لوگ وہ ہیں وہ ہیں جو اپنی عورتوں سے اچھا سلوک کرتے ہیں ان کے بالمقابل عورت کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنے خاوند کی فرمانبردار رہے۔ اس کے مال کو ضائع ہونے سے بچائے ۔ ۱۹۹، اس کی عزت کی حفاظت کرے اس کی اولاد کی اچھی طرح پرورش کرے۔ اگر عورت مرد کے تعلقات کسی وقت بگڑ جائیں تو حکم ہے کہ جس قدر ہو سکے صلح کی کوشش کریں۔ اگر آپس میں صلح نہ ہو سکے اور فساد بڑھتا ہی جائے تو اسلام کہتا ہے کہ ایک حکم مرد کے عزیزوں یا عزیز نہ ہوں تو دوستوں میں سے ایک عورت کے عزیزوں یا عزیز نہ ہوں تو اس کے خیر خواہوں میں سے مقرر کیا جائے دونوں مل کرنا اتفاقی کی وجوہ پر غور کریں۔ اگر ان کے نزیک صلح ممکن ہو تو ان تجاویز کے ذریعہ سے جو ان کے ذہن میں ہوں صلح کرانے کی کوشش کریں اگر ان کے نزدیک صلح کی کوئی صورت ممکن نہ ہو یا ان کی تجاویز ناکام ہو جائیں تو پھر مرد کو اجازت ہوگی کہ وہ عورت کو طلاق دے دے یعنی اپنے نکاح کے فتح کرنے کا اعلان کر دے اس اعلان فسخ نکاح کے لئے بھی شرائط مقرر ہیں مثلاً علی الاعلان ہو۔ اسی طرح پسند کیا گیا ہے کہ ایک ایک ماہ کے بعد تین دفعہ کرکے ہو تا کہ شاید اس عرصہ میں پھر دل درست ہو جائیں تو صلح کر لیں جس کا دروازہ آخری اعلان تک کھلا رکھا گیا ہے ۔ اگر عورت کو خاوند سے شکایت ہو اور وہ الگ ہونا چاہے تو جس طرح ان کے نکاح کے وقت اس کے سب سے قریبی مرد رشتہ دار یا حاکم کی وساطت ضروری رکھی گئی تھی اس موقع پر بھی یہ شرط مقرر کی گئی ہے کہ وہ حاکم وقت کی وساطت سے خاوند سے علیحدہ ہو ۔ اگر حاکم دیکھے کہ اس کا