انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 268

انوار العلوم جلد ۸ ۲۶۸ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کرتا ہے پاک اور نفع رساں چیزوں کو اور حرام قرار دیتا ہے ان چیزوں کو جو بے فائدہ ہیں۔ یعنی اس کی شریعت بطور چٹی اور سزا کے نہیں بلکہ ہر اک حکم اپنے اندر کوئی نفع یا ازالہ ضرر رکھتا ہے اور ان پر سے وہ بوجھ جن کو یہ اُتار ہی نہ سکتے تھے اگر اُتارتے تو سزا ملتی اتارتا ہے یعنی رسوم جو کہ بوجھ بھی ہوتے ہیں مگر باوجود اس کے انسان ان کو اتار نہیں سکتا کیونکہ جانتا ہے کہ قوم ناراض ہو جائے گی اور رہنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ اور یہ رسول وہ طوق اتارتا ہے جو انہوں نے پہنے ہوئے تھے یعنی ان عادات کو دور کرتا ہے جو بطور رسم کے تو نہ تھیں لوگ تو ان کے ترک کرنے پر سزا نہیں دیتے تھے مگر یہ خود ان کو اتارنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے چنانچہ دیکھ لو رسول کریم اللہ نے کس طرح ایک ایسی قوم میں سے جو شراب کی ایسی عادی تھی کہ آدھی رات کو اٹھ کر شراب پینا شروع کرتی تھی اور عشاء کے وقت تک شراب پیتی ہی جاتی تھی ایک حکم سے شراب کو مٹا دیا اور اس طرح مٹایا کہ پھر شراب نے بطور قومی شربت کے قدم نہ رکھا۔ اب اس وقت سائنس نے اس کی مضرتوں کو بہت ہی واضح کر دیا ہے اور عام طور پر ڈاکٹر اس کے مخالف ہوتے جاتے ہیں مگر پھر بھی بعض حکومتیں باوجود سخت کوشش کے اس کا رواج اچھی طرح نہیں مٹا سکیں۔ خلاصہ یہ کہ رسم اور عادات بھی گناہ کا مرتکب بنادیتی ہیں۔ ایک شرابی کو شراب ایک افیونی کو افیون، ایک کو کین استعمال کرنے والے کو کو کین نہ ملے تو وہ بیسیوں جرم کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے جن پر وہ دوسری کسی صورت میں بھی آمادہ نہ ہوتا۔ اوپر جو راستے گناہ کے بیان کئے گئے ہیں وہ بطور مثال کے ہیں مگر پھر بھی مضمون سمجھانے کے لئے کافی ہیں اس لئے چونکہ اخلاق کی تعلیم کے تمام ضروری پہلوؤں پر اجمالاً بحث ہو چکی ہے۔ اب اسلام کی اس تعلیم کے بیان کرنے کی طرف توجہ کرتا ہوں جو اس نے تمدن کے متعلق دی ہے۔ اسلام کی تعلیم تمدن کے متعلق تمدن کے قوانین سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ قوانین مراد ہیں جن کے ذریعہ سے ان بنیادوں