انوارالعلوم (جلد 8) — Page 259
انوار العلوم جلد ۸ ۲۵۹ احمدیت یعنی حقیقی اسلام سے بڑھا ہوا ضرر جسمانی یا اخلاقی یا روحانی ہو چنانچہ اسی وجہ سے اسلام نے یہ حکم دیا ہے کہ ترکاری بھی اور گوشت بھی دونوں چیزوں کا استعمال کرنا چاہئے کیونکہ بعض اخلاق نباتات کے استعمال سے ترقی کرتے ہیں اور بعض حیوانات کے استعمال ہے۔ جیسے کہ حلم اور نرمی اور ذکاوت اور استقلال نباتات کے استعمال سے پیدا ہوتے ہیں لیکن شجاعت اور وقار اور ہمت اور غیرت حیوانات کے استعمال سے زیادہ ہوتے ہیں۔ ۱۸۷ پس اسلام نے ہر اک قسم کی غذاؤں کے استعمال کا حکم دیا ہے تاکہ سب کے سب جذبات انسان کے اندر نشو و نما پاتے رہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُبَنِي أَدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَتِ مِنَ الرِّزْقِ اے مومنو! نیک اعمال کے حصول کے لئے تین باتوں کی ضرورت ہے ایک تو یہ کہ خدا تعالیٰ کی عبادت ظاہر اور باطن کو درست کرکے کرو۔ دوسرے یہ کہ ہر قسم کے کھانے اور پینے کی چیزوں کو استعمال کرو اور ایک ہی طرف زور نہ دے دو تا کہ ہر قسم کے طبعی تقاضے تم میں نشو و نما پائیں۔ تو ان سے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ انسان کو ظاہری صفائی کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہئے یا یہ خیال کرتے ہیں کہ انسان کو باطنی صفائی کی طرف توجہ نہیں کرنا چاہئے یا یہ خیال کرتے ہیں کہ انسان کو ایک ہی قسم کی غذاؤں کے پیچھے پڑ جانا چاہئے کہہ دے کہ خدا کی پیدا کی ہوئی زینت اور اس کے عطا کئے ہوئے عمدہ اور پاک کھانوں کو منع کرنے والے تم کون ہو ؟ ہاں اس قاعدہ کے ساتھ کہ انسان کو ہر قسم کی غذائیں جو اس کے مختلف طبعی تقاضوں کو ابھارتی ہیں استعمال کرنی چاہئیں یہ بھی حد بندی لگادی ہے کہ جو غذا ئیں جذبات کو ایسا ابھارتی ہیں کہ انکو قابو میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے یا جو صحت یا عقل یا اخلاق یا دین پر بداثر ڈالتی ہیں ان کو استعمال نہیں کرنا چاہئے کیونکہ وہ اصل غرض کو بالکل باطل کر دیتی ہیں۔ ان غذاؤں میں سے سب سے مقدم قرآن کریم نے مفصلہ ذیل چار غذاؤں کو رکھا ہے جو چاروں چار اصول پر مبنی ہیں۔ فرماتا ہے قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَى مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِم يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمَا تَشْفُوْحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِیم کہہ ۱۸۸ دے کہ میں تو اپنی وحی میں کھانے والے پر حرام نہیں پاتا مگر یہ کہ جو مردہ ہو یا بہایا ہوا خون ہو۔ یا سور کا گوشت کیونکہ ان میں سے ہر ایک ضرر رساں ہے یا وہ اول