انوارالعلوم (جلد 8) — Page 253
انوار العلوم جلد ۸ ۲۵۳ احمدیت یعنی حقیقی اسلام تیسرا ذریعہ اسلام نے یہ اختیار کیا ہے کہ اخلاق نیک کے اختیار کرنے اور بد اخلاق کے ترک کرنے کی عقلی اور علمی وجوہ بیان کی ہیں تاکہ علم کامل ہو اور اخلاق کے حصول کی کوشش کے لئے سچا جوش پیدا ہو سکے اس کو بھی اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔ چوتھا ذریعہ جو اسلام نے اخلاق کی درستی کے لئے تجویز کیا ہے وہ اس کے نقطۂ نگاہ کا بدلنا اور اس کی مایوسی سی کو امید سے بدلنا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سی بدیاں انسان سے اس لئے سرزد ہوتی ہیں کہ اس کے ذہن میں یہ بات جم جاتی ہے کہ وہ گناہ سے بیچ ہی نہیں سکتا۔ جو قوم اس خیال کو اپنی نسل کے سامنے پیش کرتی ہے وہ اسے ہلاک کرتی ہے وہ اپنی آئندہ نسل کی دشمن ہے۔ جب تک کوئی شخص یہ یقین نہیں رکھتا کہ وہ ایک مقصد کو حاصل کر سکتا ہے وہ اس کے لئے پوری کوشش نہیں کر سکتا۔ جن قوموں میں یہ خیال پیدا ہو جائے کہ ہمارے باپ دادے سب کچھ دریافت کر چکے وہ قو میں ایجادیں نہیں کر سکتیں اور جس قوم میں یہ خیال پیدا ہو جائے کہ اس میں ترقی کا مادہ ہی نہیں وہ ترقی کی طرف قدم ہی نہیں اٹھا سکتی ۔ اسی طرح جن لوگوں کے ذہن میں یہ خیال متحکم ہو کہ ہم کمزور ہیں اور اخلاق نیک حاصل نہیں کر سکتے اور بدیاں ہماری گھٹی میں پڑی ہوتی ہیں اور پیدائش سے ہمارے ساتھ ہیں ہم کبھی ان پر فتح نہیں پاسکتے وہ قوم گویا اپنے ہاتھوں سے خود ہلاک ہوئی۔ رسول کریم ال نے اس مسئلہ پر خوب زور دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ کبھی کسی شخص کو مایوس نہیں کرنا چاہئے چنانچہ آپ فرماتے ہیں إِذَا قَالَ الرَّجُلُ هَلَكَ النَّاسُ فَهُوَ أَهْلَكَهُم (۱۸۰ یعنی جب کوئی شخص کسی قوم کی نسبت کہتا ہے کہ وہ تو اب تباہ ہو گئی تو اس قوم کا ہلاک کرنے والا وہی ہے یعنی کوئی مادی مصیبت اور تباہی ایسی سخت نہیں جس قدر کہ کسی شخص کے دل میں اس خیال کا بیٹھ جانا کہ ترقی کا دروازہ اس کے لئے بند ہو گیا ہے اور وہ اب دوسروں کے سہارے پر جا پڑا ہے۔ یہ کیسی عظیم الشان صداقت ہے اور کس قدر وسیع اثر رکھنے والی ہے۔ خلاصہ یہ کہ طبیعت میں مایوسی اور ناامیدی انسان کو مقابلہ سے باز رکھتی ہے اور اس کی وجہ سے انسان ناکام اور نامراد ہو جاتا ہے۔ اسلام نے اس خیال کو جڑ سے اکھیڑ کر پھینک دیا ہے اور اس طرح اخلاق میں ترقی کرنے کا راستہ انسان کے لئے کھول دیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْویم ( یعنی ہم نے انسان کو اعلیٰ سے اعلیٰ طاقتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ نہایت ہی عمدہ اور قابل نشو و نما قوتوں کو لے کر دنیا میں آتا