انوارالعلوم (جلد 8) — Page 246
انوار العلوم جلد ۸ とこ احمدیت یعنی حقیقی اسلام بن کہ نیکی تیرا جزو ہو جائے اور رات دن لوگوں کی بہتری کی فکر میں لگا رہ تو یہ بات اس کے لئے کیسی اجنبی اور پھر کیسی مایوس کن ہوگی۔ وہ تو اس مقصد کو سن کر ہی گھبرا جائے گا اور مایوس ہو بیٹھے گا۔ لیکن اگر ہم اسے یہ کہیں کہ ہر ایک شخص جو نیکی کی طرف قدم اٹھاتا ہے گویا نیکیوں میں شامل ہوتا ہے تو اگر بدی کو چھوڑ نہیں سکتا تو کم سے کم اس امر کو محسوس کر کہ تو بدی کر رہا ہے اور اس پر فخر نہ کر تو یہ بات اس کے لئے زیادہ سہل الحصول ہو گی اور وہ بہت مستعدی سے اس کام پر لگ جائے گا اور جب اس کے دل میں گناہوں پر شرم اور ندامت محسوس ہونے لگے تو ہم اسے کہہ سکتے ہیں کہ اس نے ایک درجہ نیکی کا پالیا کیونکہ بڑی بدیوں کو چھوڑنا بھی ایک نیکی ہے اور اس کی ہمت جو اس تبدیلی سے بہت بڑھ جائے گی اس کی مدد سے ہم اسے آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے اور کہیں گے کہ اگر تو ابھی نیکی نہیں کر سکتا تو کم سے کم اپنے اعمال کو بدی سے بچا اور گو دل میں بڑے خیالات پیدا ہوں مگر ان پر کار بند نہ ہو اور کم سے ات پیدا ہوں مگر ان پر کار بند نہ ہو اور کم سے کم یہ کوشش کر کہ لوگوں کے سامنے تجھ سے افعالِ بد نہ ہوں۔ تاکہ تاکہ لوگوں کو تیرے بدا کو تیرے بد اعمال دیکھ کر جو تکلیف ہوتی ہے وہ نہ ہو۔ اور یہ کام اس کے لئے پہلے کام سے آسان ہو گا اور جب وہ اس کام کو بھی پورا کرلے گا تو اس کا حوصلہ اور بھی بڑھ جائے گا اور گو اس کا دل ابھی گندے خیالات کی آماجگاہ ہو گا مگر کیا اس میں کوئی شک ہے کہ ہم اسے بھی نیکی کے ایک درجہ پر قائم کہیں گے کیونکہ وہ نیکی کی طرف قدم مار رہا ہے اور اس نے بدیوں کا بہت سا حصہ چھوڑ دیا ہے۔ تب ہم اسے اگلا قدم اٹھانے کی نصیحت کریں گے اور اسے کہیں گے کہ چاہئے کہ اب تو اپنے دل کو بھی پاک کر اور اس نجاست سے بھی بچ ۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ اب اس کے لئے یہ قدم اٹھانا پہلے سے بھی زیادہ آسان ہو گا اور وہ اس کام کو کرلے گا اور اس کا دل اس بچہ کی طرح صاف ہو جائے گا جس نے ابھی ہوش سنبھالا ہے یا اس تصویری آئینہ کی طرح ہو گا جس پر ابھی کوئی نقش نہیں لیا گیا۔ تب ہم اسے عدل کا مقام حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائیں گے اور اسی طرح آہستگی کے ساتھ وہ اس مقام پر جاپہنچے گا جو اس کی استعداد اور ہمت کے مطابق ہے۔ مگر اس طریق کو چھوڑ دو۔ اور تمہاری اصلاح کی ساری سکیم بالکل ملیا میٹ ہو جاتی ہے۔ بلا ترتیب اور بلا خیال مدارج جو وعظ کیا جائے گا وہ کبھی بھی نیک نتیجہ نہیں نکالے گا۔ اس کی مثال یہ ہوگی کہ ہم ایک طالب علم کو جو ابھی الف ب بھی نہیں جانتا ایم اے کا کورس رٹوانا شروع کر دیں یا ویسٹر (WEBSTER) کی ڈکشنری اس کو حفظ کرانے لگیں اور یہ خیال کریں کہ جب اس کو پڑھ لے گا تو سب ہی کچھ پڑھ لے گا i