انوارالعلوم (جلد 8) — Page 242
انوار العلوم جلد ۸ ۲۳۲ احمدیت یعنی حقیقی اسلام تعلیم حاصل کرنی ہے اور بہت سے لوگ ہمت ہار بیٹھتے اور اس قدر کورس کو پڑھنا نا ممکن خیال کر لیتے۔ پس جماعتوں میں پڑھائی کو تقسیم کرنا نہ صرف معلموں اور تعلیم کے منتظموں کے لئے مفید ہوتا ہے بلکہ خود تعلیم حاصل کرنے والوں کے لئے بھی اس میں بہت سے فائدے ہوتے ہیں۔ اخلاق کی حالت بھی بعینہ ایسی ہی ہے بلکہ ہر تعلیم جو تمام بنی نوع انسان کے لئے ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ اسے مدارج میں تقسیم کیا جائے تا مختلف استعدادوں کی طبائع اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اگر تعلیم ایسی ہو گی کہ صرف اعلیٰ درجہ کے لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں تو ادنی اور اوسط درجہ کے لوگ اس سے محروم رہ جائیں گے اور اگر ایسی ہوگی کہ صرف اوسط درجہ کے لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں تو ادنی درجہ کے لوگ اس سے محروم رہ جائیں گے اور اعلیٰ درجہ کے لوگوں کے لئے اس میں کوئی دلچسپی نہ ہوگی اور اگر ادنی درجہ کے لوگوں کو اس میں مد نظر رکھا جائے گا تو اوسط واعلیٰ کے لوگوں کے لئے اس میں کوئی نفع نہ ہو گا اور اگر اس میں کوئی ترتیب مد نظر نہ ہوگی تو بھی اعلیٰ درجہ کے لوگ تو شاید ایک حد تک اس سے فائدہ اٹھا سکیں مگر باقی لوگ اس سے محروم رہ جائیں گے اور ہمتیں ہار بیٹھیں گے ۔ اور اگر صرف خیالی اور نمائشی تعلیم ہو گی تو بھی اس کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ لیکچروں کی زینت اور سٹیجوں کی رونق کے لئے یہ تعلیم اچھی ہوگی مگر اس سے عملی فائدہ دنیا کو نہیں پہنچے گا۔ اس امر کی ضرورت ثابت کرنے کے بعد کہ دنیا کو صرف اخلاقی تعلیم کی ضرورت نہیں بلکہ عملی اور تدریجی اخلاقی تعلیم کی ضرورت ہے جو انسان کو کمال تک پہنچا سکے اب میں ان مدارج کا ذکر کرتا ہوں جو اسلام نے اخلاق کے متعلق جو خواہ اچھے ہوں خواہ برے بیان فرمائے ہیں۔ سو یا د رکھنا چاہئے کہ اسلام نے اخلاق کے متعلق دو قسم کی تعلیم دی ہے ایک اجمالی اور ایک تفصیلی ۔ اجمالی تعلیم میں تو نیک اور بد اخلاق کو ایسے مدارج میں تقسیم کر دیا ہے جن میں کہ تمام اخلاق داخل ہو جاتے ہیں اور اس تقسیم کے ذریعہ ہر ایک انسان اپنے لئے ایک راستہ بنا سکتا ہے اور بدیوں سے بچنے اور نیکیوں کے حصول کے لئے کوشش کر سکتا ہے۔ اس اصولی تعلیم کے علاوہ ایک تفصیلی تعلیم ہے جس میں تفصیل سے ہر ایک امر علیحدہ علیحدہ بیان کیا ہے اور ہر ایک قسم کے خلقوں کی ترتیب بیان کی ہے۔ اصولی تعلیم اخلاق کے مدارج کے متعلق قرآن کریم کی اس آیت میں مذکور ہے۔ اِنَّ الله يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَابْتَانِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُم