انوارالعلوم (جلد 8) — Page 238
انوارا العلوم جلد ۸ ۲۳۸ احمدیت یعنی حقیقی اسلام عیب یا دینی نقص منسوب کرے گا تو اس شخص میں جس پر وہ عیب لگایا ہے وہ عیب نہ ہو گا یعنی بطور گالی کے اس کو ذلیل کرنے کے لئے اس نے ایسی بات کہی ہو گی تو آخر گالی دینے والے میں وہی عیب پیدا ہو جائے گا۔ ایک اور نقص اس طبعی جذبہ کو حد میں نہ رکھنے سے یہ ہوتا ہے کہ انسان میں افتخار کی عادت پیدا ہو جاتی ہے۔ یعنی اس خواہش کی ترقی کا اس کے دماغ پر ایسا اثر پیدا ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ اس کو اپنے عیوب اور اپنی کمزوریاں بھول جاتی ہیں اور یہ دوسروں سے اپنے آپ کو اچھا سمجھ لیتا ہے اور اس پر ناز کرتا ہے۔ اس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے۔ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالاً فَخُورًا ١٥٩۔ اللہ تعالی پسند نہیں کرتا تکبر کرنے والے اترانے والے کو۔ اسی طرح ایک طبعی تقاضا بقائے نسل کا ہے اس کے متعلق اسلام نے حد بندیاں قائم کی ہیں اور فرمایا ہے کہ اس کو بھی سوچ اور سمجھ کر استعمال کرنا چاہئے چنانچہ اس کے متعلق مندرجہ ذیل احکام دیتے ہیں۔ اول یہ کہ يَايُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ الَّتِي أَتَيْتَ أَجُورَهُنَّ نکاح کرنے تمہارے لئے جائز ہیں۔ ۱۶۲ ۱۶۰ دوم یہ کہ لا تَقْرَبُوا الزِّنَى " زنا کے قریب نہ جاؤ ۔ یعنی اپنی بیویوں کے سوا دو سروں پر اپنی شہوت کو پورا نہ کرو۔ کیونکہ اس سے بھی طبعی تقاضے کی اصل غرض فوت ہو جائے گی۔ اب ایک یہ سوال تھا کہ جن کے لئے شادی کا انتظام نہ ہو سکتا ہو وہ کیا کریں ؟ تو ان کے لئے فرمایا وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا ، چاہئے کہ وہ لوگ جن کو نکاح کا موقع میسر نہیں اپنی طاقتوں کو دبا دیں۔ یعنی ایسی احتیاطوں سے جو شہوات کو کم کرتی ہیں اپنے جوشوں کو کم کریں مگر زنانہ کریں اور نہ یہ کریں کہ اپنی طاقتوں کو بالکل ضائع کر دیں جن کے ذریعہ سے بقائے نسل کا تقاضا پورا ہوتا ہے کیونکہ اس صورت میں وہ گویا اپنی فطرت کو مسخ کریں گے اور اللہ تعالٰی اس کو نا پسند کرتا ہے کہ فطرتی تقاضوں کو بالکل منادیا جائے ۔ اسی طرح فرمایا وَرَهْبَانِيَّة ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَارْعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا ١٣) یعنی بعض قوموں نے رہبانیت کا طریق ایجاد کیا کہ اس طرح وہ اپنے نفس کو بالکل پاک رکھیں گے مگر ہم نے ان کو اس کام کے لئے ہرگز نہیں کہا تھا بلکہ انہوں نے اپنے پاس سے یہ مسئلہ ایجاد کر لیا تھا۔ پس چونکہ یہ عہد ان کا غیر طبعی تھا اور فطرت کے تقاضوں کے خلاف تھا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ۱۶۳