انوارالعلوم (جلد 8) — Page 236
انوا را اعلوم جلد ۸ ٢٣٦ احمدیت یعنی حقیقی اسلام شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى اَلا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوى - ۱۵۰ یعنی کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس امر پر نہ اکسائے کہ تم عدل چھوڑ دو نہیں بلکہ باوجود اس کی دشمنی کے تم اس سے عدل کا معاملہ کرتے رہو گویا دوسرے لفظوں میں اس کے یہ معنی ہو نگے کہ تو اپنے دشمن سے بھی دشمنی نہ کر۔ ۱۵۱ ای طرح فرماتا ہے لا يَنْهُكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوْ كُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِم ، اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں سے جو تمہارے دین میں مخالف تو ہیں لیکن تم سے اس غرض سے کہ تم کو جبراً تمہارے دین سے پھرا دیں لڑتے نہیں اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالتے نہیں نیکی کرنے اور ان کے ساتھ عدل کرنے سے نہیں روکتا۔ یعنی تو ان لوگوں سے بھی نیک سلوک کر گو وہ تیرے مذہبی دشمن ہیں لیکن دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ١٥٢۔ تم ان لوگوں کی طرف مت جھکو جو ظالم ہیں یعنی اسلام پر قائم نہیں اب ایک طرف تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم کفار سے نیک سلوک کرو دوسری طرف فرماتا ہے کہ تم انکی طرف جھکو نہیں اس کے یہی معنے ہیں کہ دنیوی معاملات میں تو ان سے نیک سلوک کرو لیکن ان کے وہ اعمال جو تقویٰ اور طہارت کے خلاف ہیں ان سے نفرت کرو۔ ایک دوسری جگہ پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لكِنَّ الله حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيْمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ ۱۵۳۔ لیکن اللہ تعالی نے تمہیں ایمان کی محبت دی ہے اور اس کو تمہارے دلوں میں خوبصورت کر کے دکھایا ہے اور کفر اور نا فرمانی اور حد سے گزر جانے کے متعلق تمہارے دلوں میں کراہت کے جذبات پیدا کئے ہیں مگر ساتھ ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (۱۵۴ - شاید تو اس غم میں کہ خدا کے دین کے منکر صداقت کو قبول نہیں کرتے اپنے آپ کو ہلاک کر دے گا یعنی ان کی گمراہی کو دیکھ کر تیرے دل کو اس قدر صدمہ پہنچتا ہے کہ تو ان کی محبت کی وجہ سے خود ہلاکت کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ ان آیات سے ظاہر ہے کہ اسلام کے نزدیک بد کی تو بے شک خیر خواہی کرنی چاہئے مگر اس کی بدی کی حالت سے نفرت کرنی چاہئے تبھی اخلاق کامل ہوتے ہیں۔ اب میں ایک طبعی جذبہ کو لیتا ہوں اور یہ خواہش ترقی کا جذبہ ہے۔ انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے دوسرے ساتھیوں سے آگے نکل جائے بلکہ یہ جذبہ جانوروں تک میں بھی پایا جاتا ہے ۔ دو