انوارالعلوم (جلد 8) — Page 234
انوار العلوم جلد ۸ ۲۳۴ احمدیت یعنی حقیقی اسلام خلق کی پیروی کر رہا ہے کیونکہ ان کے احسانات اس کے سامنے آجاتے ہیں اور وہ جانتا ہے کہ انہوں نے میرے ساتھ جب میں بے بس تھا نیک سلوک کیا تھا۔ آج میرا فرض ہے کہ میں خواہ کوئی بھی تکلیف اٹھاؤں ان کو آرام پہنچاؤں۔ اسلام نے اس امر کو مد نظر رکھ کر فرمایا ہے کہ جنت والدہ کے قدموں کے نیچے ہے مگر یہ نہیں فرمایا کہ اولاد کے قدموں کے نیچے ہے کیونکہ ہر شخص طبعاً اپنی اولاد سے محبت کرتا ہے۔ سوائے اس کے کہ جس کے دماغ میں فرق ہو ۔ مگر ہر شخص اپنے ماں باپ سے اس قدر محبت نہیں کرتا جس قدر محبت کے وہ مستحق ہیں بلکہ بہت سے لوگ دیکھے جاتے ہیں جو اپنے بوڑھے ماں باپ کو تکلیف میں دیکھنا پسند کر لیں گے لیکن اپنی اولاد کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کے پورا کرنے کی فکر میں رہیں گے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ ان کا فعل نیک مخلق کہلائے گا؟ تیسری قید محبت کی طبعی جذبہ کے لئے یہ ہے کہ قریبی نفع اور فائدہ کو نہ دیکھا جائے بلکہ دور کے فائدہ یا نقصان کو بھی دیکھا جائے ۔ مثلاً ایک شخص ایک چیز کو پیار کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے مگر اس سے تعلق اور محبت اس کے دین یا خلق کو نقصان پہنچاتی ہے تو اس وقت اس سے محبت کرنا ایک طبعی جذ بہ تو کہلائے گا مگر نیک خلق نہیں کہلائے گا کیونکہ اس محبت کا نتیجہ نیک نہیں بلکہ بد ہے۔ یا مثلا ایک ماں اپنے بچہ کی بد عادات کو دیکھتے ہوئے اسے کچھ نہیں کہتی کیونکہ اس کی محبت اسے مجبور کرتی ہے کہ اسے سزا نہ دے تو یہ محبت صرف طبعی جذبہ کہلائے گی۔ اخلاق کے ماتحت محبت تبھی آئے گی جبکہ وہ اس کو تنبیہ کرے اور اسے نیکی کی طرف لائے کیونکہ اصل فائدہ اس کا اس موقع پر سزا پانے میں ہے چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا ۱۴۔ اے مومنو! اصل محبت یہ ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنی بیویوں اور بچوں کو ہلاکت سے بچاؤ۔ الدم نفرت بھی محبت کے مقابلہ کا جذبہ ہے اور طبعی جذبہ ہے اور اس کا محل طبعی یہ ہے کہ جو چیز اپنے حواس کو نا پسند ہو یا جس کا نفع نہ ہو یا جو نقصان دیتی ہو اس سے دور رہنایا اس کو اپنے سامنے سے ہٹانے کی کوشش کرنا۔ مختلف مذاہب اس جذبہ کو برا قرار دیتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دی لیکن یہ بات درست نہیں یہ ایک طبعی جذبہ ہے اور اس کا محل اور موقع پر استعمال نا پسند نہیں بلکہ اچھا ہے۔ ہاں جب یہ حد سے زیادہ ہو یا حد سے کم ہو تب یہ جذبہ برا ہو جاتا ہے ۔ اگر حد سے زیادہ ہو جائے تو اسے عداوت کہتے ہیں یعنی بوجہ نفرت اور