انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 229

انوار العلوم جلد ۸ ۲۲۹ احمدیت یعنی حقیقی اسلام غفلت سے اگر کوئی شخص ٹھو کر کھاتا ہے لیکن جو نہی کہ اس کا نفس اس امر کو محسوس کرتا ہے اور وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں فلاں کام کرنے لگا ہوں تو جھٹ اس سے رک جاتا ہے اور اپنے نفس کو سلامتی کے کنارے کی طرف کھینچ لاتا ہے تو وہ بد اخلاق نہیں سمجھا جائے گا بلکہ اس کا یہ فعل مستحسن ہو گا اور وہ شخص اس سپاہی کی طرح ہو گا جو اپنے ملک کے لئے لڑ رہا ہے مگر ابھی فتح کا منہ اس نے نہیں دیکھا۔ اخلاق کے متعلق عملی طور پر اسلام کی تعلیم بتانے کے بعد میں چند اخلاق بطور مثال بیان کرتا ہوں کیونکہ یہ مضمون اس قدر وسیع ہے کہ اگر اسے بالاستیعاب بیان کیا جائے تو بہت ہی لمبا وقت چاہتا ہے اور اپنے اس بیان میں دوسری ترتیبوں کو نظر انداز کر کے میں صرف اس امر کو مد نظر رکھوں گا جو اخلاق کی تعریف میں میں نے بیان کیا تھا یعنی اخلاق طبعی تقاضوں کے ہر محل اور مناسب موقع پر استعمال کا نام ہے اور گو اس وجہ سے مجھے دوسری ترتیبوں کو نظر انداز کرنا پڑے گا مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ تقسیم زیادہ مؤثر اور مفید ہو گی۔ سب سے پہلے میں انسان کے طبعی تقاضوں سے رافت اور نقم کو لیتا ہوں۔ انسان کے اندر اور جانوروں کے اندر بھی یہ مادہ پایا جاتا ہے کہ وہ عام طور پر دوسرے کو تکلیف پہنچانے سے احتراز کرتے ہیں اور دوسروں کی تکلیف ان کے قلب پر ایک عجیب اثر پیدا کر دیتی ہے جس کی وجہ سے وہ اس کی تکلیف کو خود محسوس کرنے لگ جاتے ہیں ۔ ایک مریض بازار میں پڑا نظر آتا ہے تو قریبا تمام افراد کے دل میں اس کی نسبت ایک کشش اور درد محسوس ہونے لگتا ہے سوائے ان لوگوں کے جن کو کوئی سخت مشغل اپنی طرف مشغول کئے ہوئے ہو یا جن کو اس شخص سے کوئی تکلیف پہنچی ہوئی ہو ۔ مؤخر الذکر حالت میں دیکھا گیا ہے کہ بعض دفعہ ایسا شخص اس مصیبت زدہ کی حالت پر خوش ہوتا ہے اور یہ حالت نقم کی کہلاتی ہے۔ یہ حالت بھی ایک الگ جذبہ ہے اور ایسے وقت میں ظاہر ہوتا ہے جب کسی کو کسی سے کوئی تکلیف پہنچے اور اس کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ اس وقت انسان کا دل چاہتا ہے کہ میں اس تکلیف پہنچانے والے کو ایذاء پہنچاؤں۔ اس جذبہ کے غالب آجانے کی وجہ سے رافت کا جذبہ دب جاتا ہے اور بجائے اس کے کہ یہ شخص یہ خیال کرے کہ میرے ایذاء دینے سے اسے تکلیف ہوگی اور اس کو سوچ کر اس کے دل کو تکلیف ہو اور دوسرے کی نسبت رأفت محسوس ہو یہ اس خیال میں کہ دوسرے کو تکلیف ہو بعض دفعہ لذت محسوس کرنے لگتا ہے ۔