انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 221

انوار العلوم جلد ۸ ۔ ۲۲۱ احمدیت یعنی حقیقی اسلام نام و روده اور جب تک کسی مذہب کی تفصیلی تعلیم اجمالی تعلیم کے مطابق نہ ہو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ خدا تعالیٰ کے متعلق صحیح تعلیم دیتا ہے کیونکہ اجمالی تعلیم میں راستی پر قائم رہنے پر وہ اس لئے مجبور ہے کہ فطرت انسانی اس امر کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف کوئی نقص منسوب کیا جائے مگر اس صورت میں کہ اس کو فلسفیانہ اور پیچ در پیچ تشریحات کے اندر چھپا کر پیش کیا جائے ۔ پس جب تک کہ کسی مذہب کی تفصیلات اُن اسماء کے مطابق نہیں ہیں جو وہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے اس وقت تک نہ اس مذہب کا حق ہے کہ یہ دعوی کرے کہ وہ ان صفات کو واقع میں تسلیم کرتا ہے جن کو وہ اجمالاً پیش کرتا ہے اور نہ اس اجمال سے کوئی دوسرا شخص یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ سب مذاہب میں اس امر میں اشتراک ہے۔ کوئی شخص پانی کا رکھ لے تو وہ دودھ نہیں بن سکتا جب تک کہ اس ابن سکتا جب تک کہ اس میں دودھ کی خاصیتیں بھی نہ پائی جائیں بعینہ اسی طرح اخلاق کا حال ہے۔ مذاہب کی اخلاقی تعلیم کا مقابلہ کرتے ہوئے ہمیں یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ مختلف مذاہب اجمالاً اخلاق کی نسبت کیا کہتے ہیں کیونکہ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی مذہب دنیا میں ایسا ہو گا کہ جو اپنے پیروؤں کو یوں کہے گا کہ تو اگر خدا کو خوش کرنا چاہتا ہے تو جھوٹ بول اور چور ری کر اور ظلم کر اور لوگوں کا مال چھین اور جب کوئی شخص تیرے پاس امانت رکھے تو کبھی واپس نہ کیجیو اور فحش اور بد گوئی کی عادت ڈال اور جھگڑے اور فساد اور اختلاف کا اپنے آپ کو خوگر بنا۔ اور نہ میں خیال کرتا ہوں کہ کوئی مذہب ایسا ہو گا جو یہ کہے گا کہ توسیع نہ بول اور نرمی نہ کر اور محبت سے کام نہ لے اور اصلاح سے نفرت کر اور امانت نہ رکھ اور شرافت کو اپنے پاس نہ آنے دے اور وقار اور سکینت سے دور بھاگ اور شکر اور احسان کا مادہ اپنے دل میں پیدا نہ ہونے دے۔ جو مذہب بھی دنیا میں قبولیت حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے اور اپنے ہم چشموں میں اعزاز حاصل کرنا چاہتا ہے اسے یقیناً ان تمام اخلاق کے متعلق وہی تعلیم دینی پڑے گی جو سب مذاہب میں مشترک ہے اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو فطرت انسانی اس کا مقابلہ کرے گی اور چند دن میں وہ دنیا کے پر وہ سے اٹھا دیا جائے گا۔ پس اس قسم کی تعلیم اگر کسی مذہب کی طرف سے پیش ہو تو اس کا کچھ بھی فائدہ نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ تعلیم سب مذاہب میں مشترک ہے اور کسی مذہب کو اس پر فخر کرنے کا حق نہیں کہ وہ اس میں دوسرے مذاہب سے اشتراک رکھتا ہے اور نہ اس اشتراک سے ہم علمی طور پر کوئی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ یہ اشتراک بوجہ مجبوری کے ہے نہ