انوارالعلوم (جلد 8) — Page 202
انوار العلوم جلد ۸ ۲۰۲ احمدیت یعنی حقیقی اسلام شانی ہونے کے ثبوت میں حضرت مسیح موعود نے دکھائے ہیں وہ بے شک ایسے ہیں کہ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا ہے اور اس میں شفا دینے کی طاقت ہے چنانچہ مثال کے طور پر میں آپ کا ایک نشان پیش کرتا ہوں۔ جب آپ کے سلسلہ کی ترقی شروع ہوئی تو آئندہ نسلوں کو کو احمدی خیالات میں رنگین کرنے کے لئے اور ان کے اندر ملی جذبہ پیدا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود نے قادیان میں ایک ہائی سکول اپنی جماعت کی طرف سے جاری کیا۔ اس اسکول میں احمدی جماعت کے طالب علم بہت دور دور کے علاقوں سے آتے تھے تاکہ دنیاوی تعلیم کے علاوہ دینی تعلیم بھی پائیں ۔ ان طالب علموں میں جو دور سے آئے ہوئے تھے ایک لڑکا عبد الکریم نامی ریاست حیدر آباد کے ایک گاؤں کا رہنے والا تھا اس لڑکے کو اتفا قادیوا نے کتے نے کاٹ کھایا اور اس کو علاج کے لئے کسولی بھیج دیا گیا جہاں کہ پیٹیور انسٹی ٹیوٹ کی ایک شاخ ہے ۔ لڑکا علاج کرا کے واپس آگیا اور یہ سمجھ لیا گیا کہ وہ خطرہ سے باہر ہو گیا ہے مگر قادیان میں واپس آتے ہی اسے دیوانگی کا دورہ ہو گیا اور نہایت سخت تکلیف میں جو اس بیماری کا خاصہ ہے وہ مبتلاء ہو گیا۔ گلے کے تشنج اور خوف کی زیادتی اور نیند کے اڑ جانے اور جنون کے دوروں کی وجہ سے جن میں اس کا دل تیمارداروں کو مارنے کو اور کاٹنے کو چاہتا تھا اور جس پر وہ بعد میں اس قدر پشیمان ہوتا کہ تیمارداروں کو کہتا کہ وہ اسے چھوڑ کر چلے جائیں تا وہ ان کو کوئی نقصان نہ پہنچادے ۔ اس کی حالت نہایت نازک ہو گئی ۔ تب ہیڈ ماسٹر مدرسہ نے کسولی پیٹیور انسٹی ٹیوٹ کے انچارج ڈاکٹر کو تار دی کہ اب اس کے لئے کچھ ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ مگر اس نے بجواب تار دی کہ SORRY NOTHING CAN BE DONE FOR ABDUL KARIM HI افسوس ہے کہ عبد الکریم کے واسطے کچھ نہیں کیا جا سکتا " ۔ چونکہ وہ لڑکا دور سے آیا تھا اور جس علاقہ کا وہ لڑکا تھا اس میں تعلیم کا بہت ہی کم رواج تھا اور خیال تھا کہ اگر یہ مر گیا تو ان علاقوں پر اس کا بدان پر اس کا بد اثر پڑے گا آپ کے دل میں اس کی نسبت دعا کا ایک خاص جوش پیدا ہوا اور آپ نے اس کے لئے دعا کی ۔ آخر اللہ تعالی نے آپ کی دعاسنی اور رہ لڑکا جس کی نسبت خیال تھا کہ چند گھنٹوں میں مر جائے گا اور جس کی تشنج کی حالت نہایت شدید وه ہو گئی تھی حتی کہ اس کو دیکھا نہیں جاتا تھا اس کو اللہ تعالی نے آپ کی دعا سے اچھا کر دیا۔ جو لوگ علم طب سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ دیوا نے کتنے کے مریض کو جب دورہ