انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 189

انوار العلوم جلد ۸ ۱۸۹ احمدیت یعنی حقیقی اسلام تھیں ۔ ان چند غریبوں کی جماعت کے ساتھ وہ کھڑا ہوا اور مذکورہ بالا حالات میں وہ مغرب سے چھ ہزار میل کے فاصلہ پر ہندوستان میں سے جو انگریزوں کی حکومت میں شامل ہے اور اس وقت کے خیالات کے مطابق نہایت حقیر حیثیت میں تھا ایک ایسے صوبہ میں سے جو علمی حیثیت میں سب ہندوستان سے کم سمجھا جاتا ہے اور ساحل سمندر سے سینکڑوں میل کے فاصلے پر ہے اور ایک ایسے گاؤں میں سے جو ریل سے گیارہ میل کے فاصلہ پر ہے اور جہاں ڈاک بھی ہفتہ میں صرف دوبار آتی تھی اور سکول کا ایک مدرس کچھ الاؤنس لے کر ڈاک کا کام کر دیتا تھا اور جس جگہ علم کی انتہائی منزل و ر نیکر پرائمری تھی کیونکہ اس سے زیادہ تعلیم دینے والا کوئی سکول وہاں موجود نہ تھا۔ یہ سب نقشہ اس وقت کی قادیان کا ہے جس وقت یہ پیشگوئی شائع کی گئی تھی اس نے یہ اعلان کیا کہ خدا میری تعلیم کو مغرب میں پہنچائے گا اور سٹیجوں پر ۔ ں پر سے مری تعلیم پڑھ کر سنائی جائے گی اور مغرب کے لوگ اس کی صداقت کو قبول کریں گے اور میرے سلسلہ میں داخل ہوں گے اور ایسا ہی ہوا۔ اس کا سلسلہ ترقی کرتا گیا اور مغرب تک جا پہنچا ہر قسم کے لوگ اس میں داخل ہوئے اور آخر مغرب کی صداقت پسند ارواح کو بھی اس نے اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیا۔ مذہبی کا نفرنس کی دعوت سب سلسلوں کے لئے تو ایک معمولی دعوت ہے جو ایسے موقع پر دی جاتی ہے کیونکہ آخر مذہبی کا نفرنس نے بھی تو اپنی سٹیج کو رونق دینی تھی مگر ہمارے لئے اس کی حیثیت بالکل اور ہے کیونکہ اس دعوت نے اس کشف کو جو بالکل مخالف حالات میں شائع کیا گیا تھا پورا کر دیا ہے۔ کیونکہ اگر یہ سلسلہ ایک طبعی راہ اختیار کرتا تو آج یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ لندن کی ریلیجنز کانفرنس اس کو دعوت دیتی ۔ اسے کبھی کا فنا ہو جانا چاہئے تھا مگر خدا نے اس کشف کے مطابق اسے بڑھایا اور آخر اسی طرح ہوا جس طرح کہا گیا تھا اور ثابت ہوا کہ خدا علیم ہے وہ ایسی باتیں بتاتا ہے جن کا علم انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا اور اس وقت بتاتا ہے جب لوگ ان کو عقل کے خلاف سمجھتے ہیں ۔ میں ان ثبوتوں میں سے جو آپ نے صفت علم کے ثبوت میں پیش کئے ایک اور ثبوت کے پیش کرنے سے نہیں رک سکتا کیونکہ وہ بھی یورپ سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا نہایت گہرا اثر یورپ اور امریکہ پر آج تک چلا آتا ہے اور وہ آپ کی وہ پیشگوئی ہے جو جنگ یورپ اور زار روس کے انجام کے متعلق تھی۔ یہ پیشگوئی مختلف اوقات میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے کی گئی ہے اور ۱۹۰۴ء سے ۱۹۰۸ء تک مکمل ہوئی ہے آپ فرماتے ہیں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ