انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 186

انوار العلوم جلد ۸ ۱۸۶ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ہو ۔ اور اگر سیکھ بھی لی ہونہ بھی لی ہو تو جبکہ پنجاب کی باقاعدہ درسگاہوں میں پڑھے ہوئے لوگ ئے لوگ چند صفحے عربی سے جا جیسے شیکسپیو اولد جا سکتی کیونکہ وہ رتبه کے نہیں لکھ سکتے تو آپ نے پنجاب میں بیٹھے بیٹھے چند دن کی صحبت میں عربی پر اس قدر عبور کہاں حاصل کر لیا کہ عربی میں پچھتیس کے قریب کتب لکھ دیں کھ دیں اور پھر سب علماء کو چیلینج بھی دیا مگر کوئی شخص مقابل نہیں آیا ۔ بے شک بعض لوگ اپنی فصاحت و بلاغت میں بے نظیر سمجھے جاتے ہیں۔ ڈنٹی ۱۰۴ ، وغیرہ ۔ مگر ان کی مثال اس جگہ پیش نہیں کی جاسکتی کی لوگ پہلے دعوی کر کے نہیں کھڑے ہوئے۔ پہلے تو خود ان کو بھی علم نہیں تھا کہ ان کی کتب کیار پائیں گی مگر جب وہ کتب مشہور ہو ئیں تو معلوم ہوا کہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کی ہیں۔ جب چند آدمی دوڑتے ہیں تو ان میں سے کوئی نہ کوئی تو اول نکل ہی آتا ہے پس جو اول نکلے اس کا حق نہیں کہ وہ اس امر کو کوئی غیر معمولی کام قرار دے۔ مگر ایک کمزور اور نحیف آدمی جو اچھی طرح چل بھی نہ سکتا ہو وہ ایک دوڑ میں شامل ہو اور پہلے سے کہہ دے کہ میں اول رہوں گا اور پھر اول رہے تو اس کا اول رہنا بے شک ایک معجزہ ہو گا اور کسی بالا طاقت کی طرف منسوب کیا جائے گا۔ خدا تعالی اسی طرح اپنی صفت علم کا اظہار کیا کرتا ہے چنانچہ اعمال باب ۲ سے معلوم ہوتا ہے کہ حواریوں کے ذریعہ سے بھی اللہ تعالی نے اپنی صفت علم کا اظہار اس طرح کیا تھا کہ ان کو دوسرے قبائل کی زبانیں سکھادی تھیں۔ مگر فرق یہ ہے کہ ان کو جیسا کہ اعمال سے ظاہر ہوتا ہے یہودی قبائل کی زبانیں سکھائی گئی تھیں اور وہ ان کے بولنے میں غلطیاں بھی کرتے تھے لیکن مسیح موعود کو غیر ملک کی زبان سکھائی گئی تھی اور ایسے کامل طور پر سکھائی گئی تھی کہ خود اہل زبان با وجود بار بار چیلنج دینے کے مقابلہ پر نہیں آسکے ۔ خدا تعالی کے علیم ہونے کا ایک اور ثبوت جو حضرت مسیح موعود کے ذریعہ سے ظاہر ہوا۔ یہ مذہبی کار کا نفرنس ہے جس کے لئے آج آپ لوگ جمع ہوئے ہیں آج سے چونتیس سال پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک کشف ہوا تھا جس میں ولایت میں آپ کے سلسلہ کی اشاعت کا ذکر تھا اس کشف کو آپ نے اپنی کتاب اپنی کتاب ازالہ اوہام میں جو ۱۸۹۱ء میں طبع ہوئی ہے شائع بھی کر دیا ۔ اس کے الفاظ یہ ہیں۔ مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی جو قدیم سے ظلمت کفر و ضلالت میں ہیں آفتاب صداقت سے ۔ صداقت سے منور کئے جائیں گے اور ان کو اسلام سے حصہ ملے گا اور میں نے دیکھا کہ میں شہر لنڈن میں ایک ممبر پر کھڑا ہوں اور