انوارالعلوم (جلد 8) — Page 182
انواز العلوم جلد ۸ طرف سے نازل ہوتا ہے۔ ۱۸۲ احمدیت یعنی حقیقی اسلام پس جب میں یہ کہتا ہوں کہ الہام کو اسلام خدا تعالی کی ملاقات کا ایک ذریعہ قرار دیتا ہے تو اس سے میری یہ مراد نہیں کہ ہر خواب اور الہام ایسا ہے ۔ میں اس امر کو تسلیم کرنا ہوں اور قرآن کریم جدید تحقیق سے بہت پہلے خوابوں کے متعلق بیان فرما چکا ہے کہ ان کی دو قسمیں طبی ہیں۔ ایک تو وہ جو دماغی خرابی کے نتیجہ میں آتی ہیں اور دوسری وہ جو خواہشات نفسانی کے نتیجہ میں آتی ہیں بلکہ میرا مطلب صرف ان الهامات سے ہے جو خداتعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں اور نفسانی یا خواہشات سے پیدا ہونے والے الہاموں سے ممتاز ہوتے ہیں۔ مگر بہر حال چونکہ الہامات کی اور اقسام بھی ہیں اس لئے عام الہام بھی عرفان کے لئے اس قدر مفید نہیں کیونکہ کامل عرفان کے لئے ذریعہ بھی ایسا یقینی ہونا چاہئے کہ جو اپنی ذات میں کامل ہو اور اس کے بعد شک و شبہ کی گنجائش ہی نہ رہے ۔ یا د رکھنا چاہئے کہ میں نے عام الہام کے الفاظ اس لئے استعمال کئے ہیں کہ مذکورہ بالا شبهات صرف عام الہام کے متعلق ہی پیدا ہو سکتے ہیں ورنہ دعا کی طرح الہام اور وحی کا بھی ایک ایسا ہی درجہ ہے جو تیسری قسم کا عرفان پیدا کرتا ہے اور جسے اس تیسری قسم کے نیچے بیان کیا جائے گا۔ ور نہ عام الهام دوسری قسم کا عرفان تو پیدا کر سکتا ہے یعنی عین الیقین تک تو پہنچا دیتا ہے مگر اس سے اوپر نہیں لے جاتا۔ دونوں قسموں کے عرفانوں کو بیان کرنے کے بعد اب میں تیسری قسم کے عرفان کو بیان کرتا ہوں۔ اسلام اس قسم کے عرفان یعنی حق الیقین کے پیدا کرنے کا بھی دعویدار ہے اور اس پر بڑے اصرار کرتا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کو حکم ہے کہ پانچوں نمازوں میں دن رات میں کوئی زور سے صراط چالیس پچاس دفعہ یہ دعا خدا انه اتعالیٰ سے کیا کریں کہ اے خدا تو ، خدا تو ہمیں صراط مستقیم دکھا اور وہ مستقیم دکھا جس پر پہلے لوگ گزر چکے ہیں جن پر تو نے انعام کیا تھا۔ اور قرآن کریم میں دوسری جگہ فرمایا ہے کہ انعام والے لوگوں سے وہ لوگ مراد ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے نبوت کے مقام پر یا صدیقیت یا شهادت یا صالحیت کے مقام پر کھڑا کیا ہے یعنی یا تو وہ نبی ہیں یا نبیوں کے قریب پہنچے ہوئے ہیں۔ یا وہ نبوت کے مقام کے قریب تو نہیں مگر ہیں خدا تعالیٰ کی صفات سے حصہ لینے والے اور اس رتبہ پر پہنچے ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے عملی اثرات کو لوگوں کے سامنے پیش کر سکتے ہیں اور اپنے تجربہ کی بناء پر لوگوں کو خدا تعالیٰ کی صفات کی طرف راہنمائی کر سکتے ہیں۔ یا وہ