انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 180

انوا را اعلوم جلد ۸ ۱۸۰ احمدیت یعنی حقیقی اسلام دل کے خیال یا تحریک کا نام ہو اور لفظی الہام نہ ہوتا ہو تب تو بہت سے لوگ اس مصیبت میں مبتلاء ہو جائیں گے کہ جو خیال ان کے دل میں پیدا ہو گا وہ اسے الہام سمجھ لیں گے ۔ آخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بات آتی ہے اس کے اندر اس قدر امتیاز تو ہونا چاہیئے کہ محض خیال اور وہم اس کا مقابلہ نہ کر سکیں اور یہ نہ ہو کہ بلاوجہ اور بلا قصور لوگ گرفت میں آجائیں ۔ آخر وہ کونسا امتیاز ہو گا جس سے انسان یہ سمجھے کہ یہ میرے دل کا خیال ہے الہام نہیں یا یہ کہ الہام ہے دل کا خیال نہیں یا میری تحریر ہے خدا کی نہیں یا خدا کی ہے میری نہیں۔ اگر کہو کہ اس وقت ساتھ ہی یہ بھی خیال ہو گا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے میری طرف سے نہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب ہم ولی خیال کو الہام کہنے لگیں تو دماغ کو یہ خیال پیدا کرتے کونسی دیر لگے گی کہ یہ تیرا خیال نہیں بلکہ الہام ہے ؟ در حقیقت اس قسم کا خیال نہ صرف مذاہب کے اعتبار کو کھونے والا ہے بلکہ وہم اور وسوسہ اور خدا پر جرات کو اس قدر بڑھانے والا ہے کہ اس قسم کے خیال والوں کے لئے خطرہ ہے کہ وہ تھوڑے تھوڑے دھوکا سے ایک نیا مذہب بنالیں اور حقیقت سے دور جاکر خود بھی ٹھو کر کھائیں اور دوسروں کو بھی ٹھو کر کھلائیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ لفظی الہام کے متعلق بھی بعض لوگوں کو وسوسہ ہو سکتا ہے کیونکہ دماغ کے بعض نقص ایسے بھی ہیں کہ جن کی وجہ سے انسان کو مختلف نظارے نظر آجاتے ہیں یا بعض دفعہ الفاظ بھی سنائی دیتے ہیں ۔ مگر اس میں ایک بچاؤ ہے اور وہ یہ کہ اس صورت الہام سے تو اسی کو دھو کا لگ سکتا ہے جو پاگل ہو اور اس کے دماغ میں نقص ہو لیکن صورت اول میں تو ایک تھوڑے سے وسوسہ سے بالکل سمجھدار آدمی اپنے خیالات کو الہام قرار دے سکتا ہے اور اس کے دھوکے کو دور کرنے کی کوئی صورت ہی اس کے پاس باقی نہیں رہتی۔ غرض جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ یہ وسوسہ کہ الہام ولی خیال کا نام ہے الہام سے دوری کے سبب سے ہوا ہے ۔ اگر ایسے لوگوں کو خدا تعالیٰ کا الہام ایک دفعہ بھی ہوتا تو یہ اس دھوکے میں نہ پڑتے اور سمجھ جاتے کہ اللہ تعالٰی پُر ہیبت اور ساتھ ہی دلکش آواز میں لفظوں میں کلام نازل کرتا ہے جسے اس کے بندے اسی طرح سنتے ہیں جس طرح دوسرے کلاموں کو اور اس میں کسی وہم یا خیال کا گمان نہیں ہو سکتا ۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے راقم مضمون بھی اس کا تجربہ کار ہے اور اپنے تجربہ کی بناء پر کہہ سکتا ہے کہ خدا کا کلام الفاظ میں نازل ہوتا ہے محض خیال کے طور پر نہیں۔ اس جگہ پر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم کے نزدیک ہر ایک الهام یا خواب یا کشف