انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 175

انوا را اعلوم جلد ۸ ۱۷۵ احمدیت یعنی حقیقی اسلام تینوں قسم کے عرفان کا دروازہ ہمیشہ کے لئے کھلا رکھتا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ جب بھی کوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے اسلام کے بتائے ہوئے قواعد کے مطابق قدم بڑھاتا ہے وہ اپنی کوشش کے مطابق عرفان پالیتا ہے اور کوئی عرفان کا مقام نہیں جو خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے اب بند کر دیا ہو حالانکہ وہ پہلے لوگوں کے لئے کھلا تھا۔ میں بتا چکا ہوں کہ اصل عرفان تو وہ کیفیت خالص ہے جو انسان کے قلب میں پیدا ہوتی ہے اور وہ روحانی بینائی کی جدت ہے جس سے وہ خدا تعالیٰ کی صفات کو ایک نئے رنگ میں دیکھتا ہے اور وہ احساسات کی تیزی ہے جن سے ان انسان اپنے آپ کو خداتعالیٰ کی صفات میں لپٹا ہوا پاتا ہے ۔ مگر جس طرح ہر ایک چیز کے کچھ آثار ہوتے ہیں خدا تعالیٰ کے لقاء کے بھی کچھ آثار ہیں جن کے ذریعہ سے بندہ اس کے تعلق کو محسوس کرتا ہے اور دوسرے لوگ بھی اس کے تعلق کو محسوس کرتے ہیں کیونکہ یہ ظاہر بات ہے کہ جب کوئی چیز کسی دوسری چیز کے قریب ہوتی ہے تو اگر وہ دوسری چیز اپنے اندر کوئی خاص خصوصیت رکھتی ہے تو اس کا اثر اس پر بھی پڑتا ہے مثلاً آگ کے پاس بیٹھ کر انسان کو گرمی محسوس ہوتی ہے برف کے پاس بیٹھے تو اس کی سردی کا اثر اس پر پڑنے لگتا ہے خوشبودار چیز سے چھوئے تو اس کے کپڑوں میں سے بھی خوشبو آنے لگتی ہے یا بولنے والی ہستی سے قریب ہو جائے تو اس کی آواز کی پیدا کی ہوئی لہریں اس کے کان کے پردوں سے بھی ٹکرانے لگتی ہیں اور یہ اس بولنے والے کے علم سے حصہ لینے لگتا ہے۔ پس ضروری ہے کہ اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کا لقاء حاصل کرے تو کچھ آثار اس کی ذات میں ایسے پائے جائیں جو اس پر دال ہوں کہ اسے فی الواقع خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوا ہے ورنہ اگر منہ کے دعوی سے کچھ زیادہ نہ ہو تو ایک مکار فریبی اور راستباز خدا پرست کے دعوؤں میں کیا فرق رہے، اور لوگ لقاء کے مقام والے کو دیکھ کر کیا فائدہ حاصل کریں ۔ اسلام نے تین مدارج لقاء دوسرے کے بتائے ہیں جن کے آثار سے ان کی کیفیت معلوم ہو جاتی ہے ۔ وہ ایک طرف تو لقاء ہیں اور دوسری طرف خدا تعالیٰ پر یقین بڑھانے کا ایک ذریعہ (۱) پہلا درجہ دعا کی قبولیت کا ہے۔ (۲) دوسرا درجہ کلام الہی کا ہے (۳) تیسرا درجہ صفات الہیہ کے بندے کو اپنی آغوش میں ڈھانپ لینے کا ہے ۔ اسلام کا یہ دعوی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنی پہلا درجہ یعنی دعا کی قبولیت کا ذات کا ذات کا یقین دلانے کے لئے اور اپنے وجود کا علم دینے کے