انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 173

انوار العلوم جلد ۸ ۱۷۳ احمدیت یعنی حقیقی اسلام اس پر میٹھے کے کھانے سے طاری ہوتی ہے آجائے گی لیکن وہ شخص جس نے کبھی میٹھا نہیں چکھا اسے میٹھے کی کیفیت سمجھانی نا ممکن ہے سوائے اس کے کہ اسے اشاروں میں سمجھایا جائے مگر پھر بھی وہ اس حالت کو اچھی طرح نہیں سمجھے گاہاں بعض اثرات جو میٹھے کے دوسری چیزوں پر پڑتے ہیں جیسے لُزُوجَتْ اور رطوبت وغیرہ ان کے ذریعہ سے ہم اسکو یہ سمجھا سکیں گے کہ میٹھا نمکین وغیرہ سے علیحدہ قسم کا مزہ رکھتا ہے۔ اور اصل سمجھانے کا طریق یہی ہو گا کہ اس کے منہ میں ایک ڈلی میٹھے کی رکھ دی جائے اور کہا جائے کہ یہ میٹھا ہے ۔ اسی طرح لقاء اللہ کی کیفیت بھی لفظوں میں نہیں سمجھائی جاسکتی ہاں چونکہ یہ مضمون انسان کے ایمان سے تعلق رکھتا ہے اور اس پر انسان کی تمام روحانی ترقیات کا مدار ہے اس کے آثار اللہ تعالیٰ نے ایسے پیدا کر دیئے ہیں کہ جن کے ذریعہ سے یہ بات خوب روشن ہو جاتی ہے کہ ایک زندہ خدا کی رؤیت اور اس سے تعلق فلاں شخص کو حاصل ہو گیا ہے بعینہ اسی طرح جس طرح کہ ایک دھات کی بنی ہوئی مشین کو جب بجلی سے جو ڑ دیا جاتا ہے تو اس کے اندر ایک طاقت پیدا ہو جاتی ہے کہ دیکھنے والے سمجھ جاتے ہیں کہ اب اس کا تعلق کسی بڑی طاقت کی چیز سے قائم ہو گیا ہے۔ قدیم سے اسی طرح لقاء اللہ کے آثار ظاہر ہوتے چلے آئے ہیں اور اب بھی اسی طرح ہوتے ہیں ۔ نوح ابراہیم موسیٰ مسیح اور محمد صَلَواتُ اللهِ عَلَيْهِمْ اور باقی تمام نبیوں کے تعلق باللہ کا حال خد اتعالیٰ کی صفات کی جلوہ گری سے ہی ظاہر ہو اور نہ جو تعلق ان کو خدا تعالیٰ سے تھا اس کی کیفیت نہ ان کے زمانہ میں کوئی سمجھ سکانہ اب سمجھ سکتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات وراء الوراء ہے اس کا تعلق اور اس کی رؤیت ہوتی ہی صفات کے انعکاس سے ہے چنانچہ رسول کریم اللہ فرماتے ہیں۔ تَخَلَّقَوْا بِاخْلَاقِ اللَّهِ ۹۸ یعنی تم خدا سے ملنا چاہتے ہو تو خدا تعا اتعالیٰ کی صفات صفات اپنے اندر جذب کرو اور اپنے اخلاق صفات الہیہ کے مطابق بناؤ ۔ یاد رکھنا چاہئے کہ ان وجودوں سے تعلق جو وراء الوراء ہوں عرفان کے ذریعہ سے ہی ہو سکتا ہے اور عرفان جیسا کہ قرآن کریم نے اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے تین قسم کا ہوتا ہے ۔ اول علم الیقین یعنی کسی چیز کا پتہ صرف اس کے آثار سے ظاہر ہو خود نہ دیکھی ہو۔ اور دوسرا درجہ عرفان کا عین الیقین ہے کہ اس چیز کو خود بھی دیکھ لے صرف آثار تک بس نہ رہے لیکن ابھی اس کی حقیقت سے پوری طرح واقف نہ ہو ۔ تیسرا درجہ عرفان کا یہ ہے کہ اس کی حقیقت