انوارالعلوم (جلد 8) — Page 166
انوار العلوم جلد ۸ 144 احمدیت یعنی حقیقی اسلام گیا ہے اور اس سے یہ غرض ہوتی ہے کہ قربانی کرنے والا اس امر کا اقرار گویا قربانی کے ذریعہ سے اشارہ کی زبان میں کرتا ہے کہ جس طرح یہ جانور جو مجھ سے ادنی ہے میرے لئے قربان ہوا ہے اسی طرح میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر مجھ سے اعلیٰ چیزوں کے لئے مجھے جان دینی پڑے گی تو میں خوشی سے جان دوں گا۔ اب غور کرو کہ جو شخص قربانی کی اس حکمت کو سمجھ کر قربانی کرتا ہے اس کی طبیعت پر اس کا کس قدر گہرا اثر پڑے گا اور کس طرح وہ اپنے فرض کو یاد رکھے گا جو اس پر اس کے پیدا کرنے والے کی طرف سے عائد ہے ؟ اس ذبح کی یاد ہمیشہ اس کے دل میں تازہ رہے گی اور اس کا دل اسے کہتا رہے گا کہ دیکھ تو نے اپنے ہاتھوں سے بکرے کو ذبح کر کے اس امر کا اقرار کیا تھا کہ ادنیٰ چیزا علی کے لئے قربان کی جاتی ہے پس تجھے بھی اس قربانی کے لئے تیار رہنا چاہئے جو صداقتوں کے قیام یا بنی نوع انسان کی تکالیف کو دور کرنے کے لئے تجھے کرنی پڑے۔ اس مضمون کی طرف قرآن کریم اشارہ کرتا ہے جب وہ فرماتا ہے لن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُم " اللہ تعالیٰ کو نہ تمہاری قربانیوں کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون لیکن اللہ تعالیٰ کو وہ ارادہ جو خشیت اللہ کو مد نظر رکھ کر تم نے کیا تھا وہ پہنچتا ہے یعنی اگر اس غرض کو پورا کرو گے جس کے لئے قربانی کی ہے تو قربانی کا فائدہ ہو گا ورنہ صرف گوشت کھانے اور خون بہانے کا کام تم سے ہوا ہے اور کوئی حقیقی فائدہ تم کو نہ ہو گا۔ اس بیان سے آپ لوگوں پر اچھی طرح واضح ہو گیا ہو گا کہ اسلام کے نزدیک قربانیوں کی ہرگز وہ وجہ نہیں ہے جو دوسری قوموں میں ہے۔ اسلام اس مقصد کو محفوظ رکھ رہا ہے جس کی وجہ سے اس اشاروں کی زبان کو جاری کیا گیا تھا مگر دوسرے مذاہب اصل زبان کو بھول کر قربانی کے اور ہی مقصد تجویز کر رہے ہیں۔ مقصد اول کا سوال چهارم مقصد اول کا سوال چہارم یہ ہے کہ کیا خدا بندہ کو مل سکتا ہے ؟ اور کیا کوئی مذہب خدا سے ملانے کا دعویدار ہے اور خدا تعالیٰ سے بندہ کو ملا دیتا ہے ؟