انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 154

انوار العلوم جلد ۸ ۱۵۴ احمدیت یعنی حقیقی اسلام مختلف مذاہب نے مختلف طور پر دیا ہے اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس سوال کے متعلق مختلف مذاہب کا پہلے سوالوں کی نسبت زیادہ اختلاف ہے۔ اس اختلاف ہے۔ اسلام اس سوال کا یہ جواب دیتا ہے اور یہی طبعی جواب ہے کہ انسان کو چاہئے کہ اس غرض کو پورا کرے جس غرض کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے یعنی اللہ تعالی کی معیت تلاش کرے اور اس کا کامل عبد بنے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فَرَارًا وَ السَّمَاءَ بِنَاءُ وَصَوَّرَكُمْ فَاحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبَاتِ ذَلِكُمْ الله رَبُّكُمْ فَتَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ - هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدُ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَمَا جَاءَ نِيَ الْبَيِّنَتُ مِنْ رَبِّي وَأُمِرْتُ أَنْ أَسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ ، یعنی اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو ایسا بنایا ہے کہ اس میں تمہاری ضرورتوں کے سب سامان مہیا ہیں اور آسمان کو تمہارے لئے موجب حفاظت بنایا ہے اور تم کو شکلیں دی ہیں اور ایسی شکلیں دی ہیں جو تمہارے کام کے مطابق ہیں اور پاکیزہ رزق تم کو عطا کیا ہے یہ تمہارا خدا ہے پس کیا ہی برکت والا ہے یہ خدا جو نہیں بلکہ سب مخلوقات کا رب ہے وہ زندہ ہے اور دوسروں کو زند سروں کو زندگی بخشا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس اس کو پکارو اس طرح کہ سوائے اس کے اور کسی کی عبادت نہ کرو۔ سب تعریف اس خدا کے لئے ہے جو سب مخلوق کا رب ہے ۔ تو کہہ دے مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو بعد اس کے کہ میرے پاس میرے رب کے کھلے کھلے نشان آچکے ہیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب جہانوں کے رب کا صرف تمہارا ہی رب پورا فرمانبردار ہو جاؤں۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قلبی تعلق کے علاوہ جس کا پہلے ذکر آچکا ہے اپنے بندے سے ظاہری اعمال میں بھی اپنے احکام کی فرمانبرداری چاہتا ہے۔ یہ احکام جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کئی قسم کے ہیں مگر اس جگہ میں صرف ان احکام کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو عبادت سے تعلق رکھتے ہیں یعنی جن میں اللہ تعالی کے حضور میں اظہار عبودیت کو مد نظر رکھا گیا ہے ۔ بنی نوع انسان کے ساتھ ان کا براہ راست تعلق نہیں۔ یہ اعمال اسلام نے پانچ قسم کے مقرر کئے ہیں۔ (1) نماز (۲) ذکر (۳) روزه (۴) مج (۵) قربانی اور ان اور ان پانچوں قسم کے احکام میں تمام مذاہب میں قریباً اشتراک پایا جاتا ہے یعنی ان میں ان پانچوں قسم کی عبادتوں کا وجود پایا جاتا ہے گو طریق عبادت مختلف ہیں۔ جدید تحقیق جو پرانے