انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 129

انوار العلوم جلد ۸ ۱۲۹ احمدیت یعنی حقیقی اسلام اب اس میں سے کسی نئی طاقت یا اس کے کسی نئے فائدے کا معلوم ہونا نا ممکن ہے۔ انسانی جسم کے اسرار بھی ابھی تک پورے طور پر ظاہر نہیں ہو سکے کجا یہ کہ انسان اپنے غیر کے اسرار کو بالاستیعاب دریافت کر سکتا۔ پس جب یہ حال اس قانون قدرت کا ہے جو ایک عارضی فائدہ اور عارضی نفع کے لئے بنایا گیا ہے تو کلام الہی کو جو معالج روحانی کا قائم مقام ہے کس قدر عجائبات اور اسرار اور فوائد پر مشتمل ہونا چاہئے اور اس کی مخفی طاقتوں کا خزانہ کیسا غیر محدود ہونا چاہئے۔ ہمارے نزدیک اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہر ایک عقلمند انسان کے نزدیک کامل کلام کے اندر اس خوبی کا پایا جانا ضروری ہے اور جس کلام میں یہ خوبی نہیں وہ ہرگز خدا کا کامل کلام نہیں کہلا سکتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے مخالفوں کو جو قرآن کریم کے علوم کی نسبت یہ خیال کرتے تھے کہ وہ سب کے سب پہلے لوگوں پر ختم ہو چکے مخاطب کر کے یوں فرماتے ہیں۔ جاننا چاہئے کہ کھلا کھلا اعجاز قرآن شریف کا جو ہر ایک قوم اور ہر ایک اہل زبان پر روشن ہو سکتا ہے جس کو پیش کر کے ہم ہر ایک ملک کے آدمی کو خواہ وہ ہندی ہو یا پارسی یا یوروپین یا امریکن یا کسی اور ملک کا ہو ملزم و ساکت ولا جو اب کر سکتے ہیں وہ غیر محدود معارف و حقائق و علوم حکمیہ قرآنیہ ہیں جو ہر زمانہ میں اس زمانہ کی حاجت کے موافق کھلتے جاتے ہیں اور ہر ایک زمانہ کے خیالات کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلح سپاہیوں کی طرح کھڑے ہیں۔ اگر قرآن شریف اپنے حقائق ودقائق کے لحاظ سے ایک محدود چیز ہوتی تو ہر گز وہ معجزہ نامہ نہیں ٹھر سکتا تھا۔ فقط بلاغت و فصاحت ایسا امر نہیں ہے جس کی اعجازی کیفیت ہر ایک خوانده و نا خواندہ کو معلوم ہو جائے کھلا کھلا اعجاز اس کا تو یہی ہے کہ وہ غیر محدود معارف ودقائق اپنے اندر رکھتا ہے۔ جو شخص قرآن شریف کے اس اعجاز کو نہیں مانتا وہ علم قرآن سے سخت بے نصیب ہے۔ اے بندگان خدا ! یقیناً یاد رکھو کہ قرآن شریف میں غیر محدود معارف و حقائق کا اعجاز ایسا کامل اعجاز ہے جس نے ہر ایک زمانہ میں تلوار سے زیادہ کام کیا ہے اور ہر ایک زمانہ اپنی نئی حالت کے ساتھ جو کچھ شبہات پیش کرتا ہے یا جس قسم کے اعلیٰ معارف کا دعوی کرتا ہے اس کی پوری مدافعت اور پورا التزام اور پورا پورا مقابلہ قرآن شریف میں موجود ہے۔ کوئی شخص برہمو ہو یا بدھ مذہب والا آریہ یا کسی اور رنگ کا فلسفی کوئی ایسی الہی صداقت نکال نہیں سکتا جو قرآن شریف میں پہلے سے موجود نہ ہو۔