انوارالعلوم (جلد 8) — Page xvi
۹ امریہ کہ حضور نے اس کتاب میں صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیمات کا ذکر ہی نہیں کیا بلکہ آپ نے ان تعلیمات پر عمل کرنے والوں کی مثالیں بھی دی ہیں اور انہوں نے کس طرح اپنی زندگیوں میں انقلاب پیدا کئے اور حضرت مسیح موعود کی تعلیم کا ان پر اس قدر اثر ہوا کہ ان میں بعض نے اپنی جانیں قربان کر دی لیکن حضرت مسیح موعود کی تعلیم کو چھوڑنا پسند نہیں کیا اور حضرت مسیح موعود کی تعلیمات کی برکات سے احمدی آج دین و دنیا میں فلاح پا رہے ہیں۔ آخر پر حضرت مصلح موعود نے تمام دنیا میں بسنے والوں کو قبول احمدیت کی دعوت دیتے ہوئے خوشخبری دی ہے کہ ان کے مصائب کے دور ہونے کا وقت آگیا ہے اور اگر وہ اس دور کے فرستادہ کے ہاتھ پر اکٹھے ہو جائیں گے تو وہ دین و دنیا کی فلاح پائیں گے۔ (۶) یاد ایام یہ مختصر رسالہ حضرت فضل عمر کی ابتدائی زندگی (۱۹۱۴ء تک) کے حالات کا ایک حسین خود نوشت مرقع ہے۔ جس میں حضور نے اپنی زندگی پر اثر انداز ہونے والے اہم واقعات کے کا ذکر فرمایا ہے۔ ۱۹۰۰ء میں پیش آنے والی ایک روحانی کیفیت کا روحانی کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔ ۱۹۰۰ء نے دنیا میں قدم رکھا تو میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ میں خدا تعالی پر کیوں ایمان لاتا ہوں؟ اس کے وجود کا کیا ثبوت ہے میں دیر تک رات کے وقت اس مسئلہ پر سوچتا رہا آخر دس گیارہ بجے میرے دل نے فیصلہ کیا کہ ہاں ایک خدا ہے۔ وہ گھڑی میرے لئے کیسی خوشی کی گھڑی تھی ۔۔۔۔ میرا پیدا کرنے والا مجھے مل گیا۔" گیارہ سال کی عمر میں آپ نے نماز نہ چھوڑنے کا عزم کیا اس تاریخی لمحہ میں آپ کی آنکھوں میں جو آنسو آئے ان کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔ ” وہ شمس روحانی کی گرم کر دینے والی کرنوں کا گرایا ہوا پسینہ تھے وہ مسیح موعود علیہ السلام کے کسی فقرہ یا کسی نظریہ کا نتیجہ ۔ اور اگر یہ نہیں تو میں نہیں کہہ سکتا کہ پھر وہ کیا تھے۔" ۱۹۰۶ء میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی کی وفات کے بعد آپ کی زندگی