انوارالعلوم (جلد 8) — Page 118
انوار العلوم جلد ۸ پہنچائے ۔ ١١٨ احمدیت یعنی حقیقی اسلام اے بھائیو ! اگر دنیا کبھی کسی نبی کی محتاج تھی تو وہ آج اس سے بڑھ کر محتاج ہے۔ مذاہب کی جڑ آج کھو کھلی ہو رہی ہے اور دنیا میں تین ہی قسم کے لوگ نظر آتے ہیں یا تو وہ جو مذہب کی ضرورت کو ہی خیر باد کہہ چکے ہیں اور خدا تعالیٰ کو یا تو بکلی جواب دے چکے ہیں یا اس پر ان کو ویسا ہی ایمان ہے جیسا کہ پہاڑوں اور دریاؤں پر کیونکہ اس کا وجود ان کی روز مرہ کی زندگی پر کوئی اثر نہیں ڈالتا۔ اگر وہ یہ فیصلہ کرلیں کہ خدا تعالیٰ نہیں ہے تو بھی ان کے اعمال میں کوئی تغیر واقع نہ ہو اور اب جو وہ کہتے ہیں کہ خدا ہے تو اب بھی اس کا اثر ان کے اعمال پر کچھ نہیں ہے۔ یہ لوگ یہاں تک کہہ اٹھتے ہیں کہ ہم اپنی حریت کو خدا تعالی کے لئے بھی نہیں چھوڑ سکتے اور اپنے وقار کو خداتعالیٰ کے سامنے دعا اور عاجزی کر کے صدمہ نہیں پہنچانا چاہتے۔ دوسری قسم کے وہ لوگ ہیں جو خدا تعالی کے تو قائل ہیں اور اس کی طاقتوں پر بھی یقین رکھتے ہیں لیکن وہ اس پیا سے کی طرح ہیں جو ریگستان کے ٹیلوں کے درمیان راستہ بھول جاتا ہے اور میلوں میل تک اسے پانی کا ایک قطرہ نہیں ملتا۔ جوں جوں وہ پانی کی تلاش کرتا ہے اس کی پیاس اور بڑھتی جاتی ہے اور اس کی گھبراہٹ ترقی کرتی جاتی ہے مگر اس کا پھرنا اور چکر لگانا اس کو نفع نہیں دیتا۔ وہ ایک سراب سے دوسرے سراب تک جاتا ہے اور بھی دور ہوتا جاتا ہے اور آخر موت کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ تیسرا گر وہ وہ ہے جو اپنی قسمت پر خوش ہے اور اپنی حالت پر قانع ہے مگر اس لئے نہیں کہ وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس کی فطرت کے تقاضے پورے ہو چکے ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ ہمت ہار چکا ہے اور خدا کے فضل سے مایوس ہو چکا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ خدا کے فضل پہلوں پر ختم ہو چکے ہیں۔ میں اس کے سوتیلے بیٹے کی طرح ہوں جسے وہ اپنے مال کا وارث نہیں قرار دیتا اس لئے میرے لئے وہی کافی ہے جو پہلوں کے دستر خوان سے اٹھا اور جو ان کی مہربانی نے مجھ تک پہنچا دیا ۔ مگر یہ تینوں حالتیں غیر طبعی ہیں نہ پہلے گروہ کی بے اعتنائی اس کو فائدہ پہنچا سکتی ہے نہ دوسرے گروہ کی بے فائدہ جد و جہد اور نہ تیسرے گروہ کی قناعت ۔ جو چیز فائدہ پہنچا سکتی ہے وہ خدا کا عرفان ہے جو تمام تاریکیوں کو مٹاکر انسان اور خدا تعالیٰ کے درمیان سے سب پردے ہٹا دیتا ہے اور بندے اور خدا کو ایک جگہ جمع کر دیتا ہے اور مذہب کو ایسی صورت میں انسان کے سامنے پیش کرتا ہے کہ اس کا دل اسے قبول کر لیتا ہے اور اس کی عقل تسلی پا جاتی ہے اور یہ بات نہ آج تک نبیوں کے بغیر دنیا کو حاصل ہوتی ہے نہ آئندہ ہو سکتی ہے۔