انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 115

انوار العلوم جلد ۸ ۱۱۵ احمدیت یعنی حقیقی اسلام اس کے بعد میں اس مضمون کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جس پر بولنے کی مجھ سے خواہش کی گئی ہے یعنی احمدیت ۔ لیکن پیشتر اس کے کہ میں اس کے مذہبی پہلو پر روشنی ڈالوں میں احمدیت کی مختصر تاریخ اور اس کی موجودہ وسعت اور قوت کو بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ احمد یہ سلسلہ کی بناء حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام نے (۲۳ مارچ) ۱۸۸۹ء میں قریباً ۵۴ سال کی عمر میں رکھی اور قادیان میں جو آپ کا وطن ہے اور جو این ڈبلیو ریلوے کے سٹیشن بٹالہ سے گیارہ میل شمال مشرق پر ایک چھوٹا سا قصبہ ہے اس کا مرکز تجویز کیا۔ باوجود اس سخت مخالفت کے جو آپ کی تمام مذاہب ہندنے کی اور اس غیر ہمدردانہ بلکہ بعض اوقات مخالفانہ رویہ کے جو گورنمنٹ نے آپ سے برتا آپ کا سلسلہ تمام اکناف تمام اکناف ہند میں بڑھنا شروع ہوا حتیٰ کہ آپ کی وفات کے وقت جو ۱۹۰۸ء میں ہوئی احمد یہ جماعت کی تعداد کئی لاکھ تک پہنچ گئی تھی اور یہ سلسلہ ہندوستان سے نکل کر عرب اور افغانستان میں بھی پھیل چکا تھا۔ آپ کی وفات کے بعد سلسلہ کے امام حضرت استاذی ہوئی یہ عاجز المکرم مولوی نور الدین صاحب منتخب ہوئے اور آپ کی وفات پر جو پر جو ۱۹۱۴ء میں ہوئی یہ جماعت کا امام منتخب ہوا۔ (ابتدائے اسلام کی طرح احمد یہ جماعت کا بھی ایک امام مقرر ہوتا ہے جسے جماعت منتخب کرتی ہے اور یہ ضروری نہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود کی اولاد یا خاندان میں سے ہو جیسے کہ حضرت خلیفہ اول کوئی حسبی یا نسبی تعلق حضرت مسیح موعود سے نہیں رکھتے تھے اور نہ یہ ضروری ہے کہ وہ آپ کے خاندان میں سے نہ ہوا ہوا جیسا کہ یہ عاجز حضرت مسیح موعود کی فرزندی کی عزت رکھتا ہے) اس وقت یہ سلسلہ تمام دنیا میں پھیلا ہوا ہے اور اس کے ممبروں کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے جن میں سے بڑا حصہ ہندوستان اور اس کے قریب کے علاقوں میں۔ ہے۔ اس مخالفت شدید ۔ شدید کے سبب سے جو اس سلسلہ کے افراد سے کی جاتی ہے بہت سے لوگ مخفی طور پر احمدی ہیں لیکن ظاہر طور پر شامل نہیں ہو سکتے چنانچہ ایسے لوگ ہندوؤں، سکھوں اور دوسرے مسلمان فرقوں میں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ہر قوم اور طبقہ کے لوگ شامل ہیں اعلیٰ اقوام کے بھی اور نام نہاد ادنی اقوام میں سے بھی۔ چنانچہ پچھلے دو سال کے عرصہ میں ان قوموں میں سے جن کو لوگ ادنی سمجھتے ہیں پنجاب اور یوپی میں تین ہزار کے قریب آدمی اس سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں اور ہر مہینے میں یہ جماعت بڑھ رہی ہے اسی طرح حیدر آباد کی ادنی اقوام میں سے بھی پچھلے سال کے اندر کئی سو آدمی اس سلسلہ کی تربیت کے نیچے آیا ہے۔