انوارالعلوم (جلد 8) — Page xiv
سب سے بالا مذہب ہے۔ ایک جرمن جو لندن میں پروفیسر ہیں انہوں نے جلسہ سے واپسی پر سڑک پر چلتے ہوئے آگے بڑھ کر حضور کو مبارک باد دی اور کہا کہ میرے پاس بعض بڑے بڑے انگریز بیٹھے تھے میں نے دیکھا کہ بعض زانوؤں پر ہاتھ مارتے اور کہتے کہ "Rare address, one can not hear such addresses every day۔" یعنی یہ ایک اچھوتا اور نادر خطاب ہے اور ایسے خطاب ہر روز سننے میں نہیں آتے۔ غرض اسلام کی حسین تعلیم کے بارے میں یہ ایسا عظیم الشان اور معرکۃ الآراء لیکچر تھا جسے سن کر سبھی نے دل کھول کر داد دی۔ اس کتاب میں حضرت مصلح موعود نے اسلام کی حسین تعلیم کی مختلف جہات پر نہایت شاندار انداز میں روشنی وشنی ڈالی ہے۔ ہے۔ سب سے پہلے آپ نے سورۃ الہ ة الصفت کی آیات ہے ۔ یہ ثابت کیا ہے کہ یہ جو مذہبی کا نفرنس منعقد ہو رہی ہے اس قسم کی کانفرنسوں کے انعقاد کی خبر آج سے تیرہ سو سال پہلے قرآن مجید نے دے دی تھی۔ اس کے بعد آپ نے جماعت احمدیہ کا تعارف کروایا اور دلائل قاطعہ سے یہ ثابت کیا ہے کہ احمدیت اور حقیقی اسلام ایک ہی چیز کے میں سب سے نام ہیں۔ اس کے بعد آپ نے مذہب کے چار مقاصد بیان کئے ہیں اور اس ذیل میں - پہلے خدا تعالی کے بارے میں اسلام کا جو تصور ہے اسے کھول کر بیان کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اسلام انسان سے اپنے خدا کے ساتھ کس طرح کا تعلق رکھنے کی امید کرتا ہے۔ اور خدا تعالی کی طرف سے بندہ پر کیا کیا ذمہ داریاں عائد کی گئیں ہیں۔ اور حضرت مصلح موعود نے اس شبہ کا ازالہ بھی کیا کہ اسلام اس طرح کی تعلیم دیتا ہے کہ اسباب سے کام ہی نہ لیا جاوے بلکہ سب کام خدا پر چھوڑ دینے چاہئیں۔ حضور نے قرآن کریم کی آیات سے ثابت کیا ہے کہ اسلام کی ہر گز یہ تعلیم نہیں۔ بلکہ اسلام کی تعلیم تو یہ ہے کہ اسباب سے بھر پور کام لیا جاوے۔ پھر خدا پر تو کل کیا جاوے تو کل ہرگز ترک اسباب کا نام نہیں بلکہ اس امر پر یقین کا نام ہے کہ خدا تعالٰی ایک زندہ خدا ہے۔ پھر حضرت مصلح موعود نے اس امر پر روشنی ڈالی ہے کہ اس وقت صرف اسلام ہی ہے جو انسان کو خدا تعالیٰ سے ملا سے ملا سکتا ہے۔ کیونکہ اسلام کا یہ دعوی ہے کہ جو بھی اسلام کی بتائی ہوئی ا تعلیم کے مطابق عمل کرتے ہوئے خدا سے وصال کی تڑپ رکھے خدا ضرور اس کو مل جاتا ہے۔ حضور فرماتے ہیں کہ :۔