انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 99

انوار العلوم جلد ۸ ۹۹ اساس الاتحاد رک سکتا ہے مگر پہلی تجویز پر عمل کرنے سے تو فتنہ کا بالکل ہی سد باب ہو جاتا ہے۔ چو تھا امر جس کا اظہار سمجھوتے کے وقت ہو جانا چاہئے یہ ہے کہ تبلیغ مذہب ہرگز منع نہیں ہوگی اور ہر ایک قوم کا حق ہو گا کہ وہ اپنے مذہب کی اشاعت کرے۔ جو قوم اس شرط کو قبول کر لیتی ہے کہ وہ اپنے مذہب کی تبلیغ نہیں کرے گی وہ گویا صریح الفاظ میں اس امر کو تسلیم کرلیتی ہے کہ اس کا مذہب جھوٹا ہے پس یہ امید کرنی کہ سیاسی سمجھوتے کے ساتھ مذہبی تبلیغ بھی بند کر دی جائے یا دوسرے لوگوں کو اپنے مذہب میں شامل کرنے کی کوشش ترک کر دی جائے ایه ایک نہ پوری ہونے والی امید ہے بلکہ ایک مجنونانہ خیال ہے جس کو عقل دھکے دیتی ہے ہاں یہ بات ضرور طے ہو جانی چاہئے کہ تبلیغ جائز طریقوں سے ہو اور اس کو باہمی مناقشات کا موجب نہ بنایا جائے ۔ مثلاً اگر کوئی شخص کسی دوسرے مذہب کو قبول کرے تو اس کے جلوس نہ نکالے جائیں یا اس کی آمد پر اس قوم کے متعلق جس میں سے وہ آیا ہے طعن اور تشفیع کا طریق نہ اختیار کیا جائے ۔ یا اسی طرح دنیاوی دباؤ سے کسی شخص سے مذہب نہ بدلوایا جائے ۔ یا سیاسی طور پر قوموں کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ جیسا کہ ملکانوں کے متعلق ہوا کہ ان کو ہندو مذہب کی خوبیوں کے اظہار کے ذریعہ سے ہندو بنانے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ مال کی لالچ زمینداروں کے دباؤ اور اس قسم کی جھوٹی روایات کے ذریعہ سے کہ تم اصل میں ہندو ہو مسلمانوں کے کے دباؤ سے تمہارے باپ دادوں نے ظاہر میں مسلمان کہلانا شرع کر دیا تھا یا یہ کہ گاندھی کو سب مسلمانوں نے اپنا پیشوا تسلیم کر لیا ہے اور ان کا فیصلہ ہے کہ سوراج ( حکومت خود اختیاری۔ مرتب) تبھی ملے گا جب سب لوگ ایک قوم بن جاویں وغیرہ وغیرہ مرتد کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح بعض ہندو ریاستوں جیسے بھرت پور انور میں علی الاعلان حکام نے دباؤ سے مسلمانوں کو ہندو کیا اور اب تک کر رہے ہیں یہ طریق تبلیغ مذ ہی نہیں بلکہ سیاسی ہے اور اس سے زیادہ واضح الفاظ میں کوئی قوم دوسری قوم کو لڑائی کا چیلنج نہیں دے سکتی۔ مہاتما پانچویں بات جس کی وضاحت ضروری ہے یہ ہے کہ جو کام ایک قوم کر رہی ہو اس سے وہ دوسری کو روکنے کا حق نہیں رکھتی مثلا ہندو لوگ مسلمانوں سے مچھوت کرتے ہیں مسلمانوں کو بھی حق ہونا چاہئے کہ وہ ان سے چھوت کریں۔ اور اگر مسلمان چھوت کی تحریک اپنے بھائیوں میں کریں تو اس پر ہندوؤں کو ناراض نہیں ہونا چاہئے اور اسے صلح کے خلاف نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ اگر ہندوؤں کی چھوت کرنے کے باوجود ہندو مسلمان کی صلح ہو سکتی ہے تو کیوں مسلمان